صفات باری تعالیٰ — Page 60
۶۰ یعنی الأسماء الحسنى دُعا کو نہیں چاہتیں کیونکہ وہ دونوں صفات صرف انسان سے خصوصیت نہیں رکھتیں بلکہ تمام پرند چرند کو اپنے فیض سے مستفیض کر رہی ہیں بلکہ صفت ربوبیت تو تمام حیوانات اور نباتات اور جمادات اور اجرام ارضی اور سماوی کو فیض رسان ہے اور کوئی چیز اس کے فیض سے باہر نہیں۔برخلاف صفت رحیمیت کے جو وہ انسان کے لئے ایک خلعت خاصہ ہے۔اور اگر انسان ہو کر اس صفت سے فائدہ نہ اٹھاوے تو گویا ایسا انسان حیوانات بلکہ جمادات کے برابر ہے جبکہ خدا تعالیٰ نے فیض رسانی کی چار صفات اپنی ذات میں رکھی ہیں اور رحیمیت کو جو انسان کی دعا کو چاہتی ہے خاص انسان کے لئے مقرر فرمایا ہے۔پس اس سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ میں ایک قسم کا وہ فیض ہے جو دُعا کرنے سے وابستہ ہے اور بغیر دعا کے کسی طرح مل نہیں سکتا۔یہ سنت اللہ اور قانونِ الہی ہے جس میں تخلف جائز نہیں۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی اُمتوں کے لئے دُعائیں مانگتے رہے۔توریت میں دیکھو کہ کتنی دفعہ بنی اسرائیل خدا تعالیٰ کو ناراض کر کے عذاب کے قریب پہنچ گئے اور پھر کیونکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا اور تضرع اور سجدہ سے وہ عذاب ٹل گیا حالانکہ بار بار وعدہ بھی ہوتا رہا کہ میں ان کو ہلاک کروں گا۔حقیقت یہ ہے کہ دعا پر ضرور فیض نازل ہوتا ہے جو ہمیں نجات بخشتا ہے۔اسی کا نام فیض رحیمیت ہے۔جس سے انسان ترقی کرتا جاتا ہے۔اسی فیض سے انسان ولایت کے مقامات تک پہنچتا ہے اور خدا تعالیٰ پر ایسا یقین لاتا ہے کہ گو یا آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے۔“ ایام اصلح روحانی خزائن جلد نمبر 14 صفحہ 249-250)