صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 59 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 59

صفات باری تعالى يعنى الأسماء الحسنى کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا یہ تو ایک سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نظر نہیں آتا۔ان رموز رحمانی تک عقل انسانی کی دسترس کہاں۔لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي (الكهف: ١١٠) اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور خداوند کریم کے انداز کریمانہ کو کلمات کا جامہ پہنائیں تو ایسے کئی سمندر خشک ہو جائیں۔اور محبوب حقیقی کے سلوک و پیار کی داستانیں اور حسن و احسان کی مدحتیں باقی رہ جائیں۔سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم أم الصفات رحیم کے تحت صفات الہیہ تیسری خوبی خدا تعالیٰ کی جو تیسرے درجہ کا احسان ہے رحیمیت ہے جس کو سورۂ فاتحہ میں الرحیم کے فقرہ میں بیان کیا گیا ہے اور قرآن شریف کی اصطلاح کے رُو سے خدا تعالیٰ رحیم اس حالت میں کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دُعا اور تضرع اور اعمال صالحہ کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تضیع اعمال سے ان کو محفوظ رکھتا ہے۔یہ احسان دوسرے لفظوں میں فیض خاص سے موسوم ہے اور صرف انسان کی نوع سے مخصوص ہے۔دوسری چیزوں کو خدا نے دعا اور تضرع اور اعمال صالحہ کا ملکہ نہیں دیا مگر انسان کو دیا ہے۔انسان حیوان ناطق ہے اور اپنی نطق کے ساتھ بھی خدا تعالیٰ کا فیض پاسکتا ہے۔دوسری چیزوں کو نطق عطا نہیں ہوا۔پس اس جگہ سے ظاہر ہے کہ انسان کا دعا کرنا اس کی انسانیت کا ایک خاصہ ہے جو اس کی فطرت میں رکھا گیا ہے اور جس طرح خدا تعالیٰ کی صفات ربوبیت اور رحمانیت سے فیض حاصل ہوتا ہے اسی طرح صفت رحیمیت سے بھی ایک فیض حاصل ہوتا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ ربوبیت اور رحمانیت کی صفتیں ۵۹