صفات باری تعالیٰ — Page 61
یعنی الأسماء الحسنى ۶۴ - السَّمِيعُ بہت سننے والا ، سب کی سننے والا ، دعا قبول کرنے والا۔فرمایا: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ - (الشورى: ١٢) وہ سمیع و بصیر ہے لیکن اس کا کوئی مثل نہیں۔اس کی سماعت ہوا کے تموج اور کسی آلہ سماعت کی محتاج نہیں۔ان اسباب کے بغیر ہی وہ سنتا ہے اور دیکھتا ہے۔یہ صفت قرآن کریم میں ۳۱ جگہ استعمال ہوئی ہے۔ایک جگہ فرمایا: رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - (البقرة: ۱۲۸) اے ہمارے رب ہم سے قبول فرما بے شک تو سنے والا اور جاننے والا ہے۔اسی طرح فرمایا: وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - (البقرة:۱۳۸) ۶۵ - الْمُجِيب دعا کرنے والا، جواب دینے والا ، اجابت جواب دینے اور دعا قبول کرنے کو کہتے ہیں یعنی جو صدق دل سے اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے وہ اس کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور اس کو جواب بھی دیتا ہے جیسا کہ فرمایا أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة: ۱۸۷) جب پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کا جواب دیتا ہوں۔اسی طرح فرمایا: إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِيبٌ۔(هود: ۶۲) بے شک میرا رب قریب ہے اور جواب دینے والا ہے۔اگر خدا تعالیٰ مجیب الدعوات اور سمیع الدعا نہ ہو تو اس کے عاشق بندے تو جیتے جی ۶۱