صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 48 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 48

یعنی الأسماء الحسنى ۴۸ یہ وسعت اس کی رحمانیت کے تحت ہے۔اس کا علم اور اس کی حکمت تمام ذوی الروح کے ساتھ اور مغفرت مومنین کے ساتھ خاص ہے۔۳۹_ اَلْحَكِيمْ حقائق الاشیاء کا عالم۔یہ اسم مشتق ہے حکمت سے اور حکمت کہتے ہیں جس فعل پر عمدہ آثار مرتب ہوں۔وَضْعُ الشَّي في محله یعنی کسی چیز کو اس کی اپنی اصل جگہ پر رکھنا۔اس سے مراد علم اور حسن کا کمال ہوتا ہے اور حکیم وہ ہے جو حقائق الاشیاء کا عالم ہو اور رضاعات کے دقائق کو خوب جانتا ہو۔فرمایا: سُبُحْنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَيْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (البقرة:۳۳) تیری ذات ہر قسم کے عیب سے پاک ہے ، ہم کوکوئی علم نہیں بجز اس علم کے جو تو نے ہم کو دیا ہے بے شک تو علیم و حکیم ہے۔پھر فرمایا: وَكَانَ اللهُ وَاسِعَا حَكِيمًا - وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ (النساء: ۱۳۱) (السبا: ٢) جب یہودی بگڑے اور انہوں نے شریعت کے احکامات کی حکمتوں کو فراموش کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیج دیا۔آج جب مسلمان بگڑے تو اللہ تعالیٰ نے اسی رنگ میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کو حکم و عدل بنا کر بھیج دیا کہ قرآنی تعلیم کی حکمتوں سے مسلمانوں کو آگاہ کریں اور تمام دنیا پر اس کی اچھائیاں اجاگر کر کے اس کا گرویدہ بنالیں۔٢٠_ الْحَلِيمُ برد بار، حلیم اسے کہتے ہیں جو مغلوب الغضب نہ ہو اور انتقام لینے میں جلدی نہ کرے بلکہ باوجود اقتدار کے عفو اور درگذر سے کام لے۔اللہ تعالیٰ اس لئے حلیم کہلاتا ہے کہ تعذیب العباد