صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 47 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 47

یعنی الأسماء الحسنى ۴۷ اے ہمارے پروردگار ہمارے دلوں کو آلودہ نہ بنا بعد اس کے کہ تو نے ہم کو ہدایت عطا فرمائی۔ہمیں اپنے حضور سے رحمت عطا فرما بے شک تو بڑا دائم العطا ہے۔اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا ہے : هَبْ لِي مُلكًا لا يَنْبَغِى حَدٍ مِنْ بَعْدِى إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ (ص: ۳۶) مجھے ایسی سلطنت عطا فرما کہ میرے بعد کسی اور کو سزاوار نہ ہو بے شک تو بڑا فیاض ہے۔۳۷۔الْمُعْطِئ عطا کرنے والا ، جسے چاہے عطا کرنے والا۔جیسا کہ اس کی عطا کے متعلق آیا ہے۔عَطَاء غَيْرَ مَجْنُودْ (هود: ۱۰۹) وہ ایسی عطا ہے جو کبھی منقطع نہیں کی جاتی۔اس دنیا میں بھی دیتا ہے اور آخرت میں بھی دیتا ہے وہ اتنا دیالو ہے کہ اس کی بخشش اور عطا پر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور کبھی وہ پیار سے اپنے پیاروں کو یہ بھی فرماتا ہے: ۳۸۔اَلْوَاسِعُ میں تینوں ایناں دیاں گا کہ توں رج جائیں گا۔“ وسیع المعلومات یا وسیع الغنا۔یہ اسم سعۃ سے ماخوذ ہے فراخی اور فراخ کرنا اس کے معنی ہیں۔قرآن کریم میں اس کا استعمال حکمت اور مغفرت اور علم کے ساتھ ہوا ہے۔فرمایا: (الالنساء: ۱۳۱) وَكَانَ اللهُ وَاسِعَا حَكِيمًا - إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ - وَاللهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ - (البقرة : ۲۶۹) (النجم:۳۳) فَقُلْ رَّبِّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ (الانعام: ۱۴۸)