صفات باری تعالیٰ — Page 49
یعنی الأسماء الحسنى میں جلدی نہیں کرتا۔قرآن کریم میں یہ صفت غفور غنی علیم ،شکور کے ساتھ مل کر ا کیلے بھی آئی ہے۔جیسے فرمایا: ۴۹ وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ - (البقرة : ۲۶۴) وَاللهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ - ( الالنساء:۱۳) وَاللهُ شَكُورٌ حَلِيمٌ (التغابن : ۱۸) وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَلِيمًا (الاحزاب:۵۲) ۴۱۔الْخَبِيرُ آگاه، دانا،عالم۔فرمایا: وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (الانعام: ۱۰۴) احاطہ کرنے والا۔واقف کہ وہ یہ اطلاع رکھتا ہے کہ کون سی ابصار تک پہنچنا صاحب الابصار کی روحانی ترقی کا باعث ہوگا۔کون استعداد روحانی رکھتا ہے تا اس پر مزید احسان کیا جائے۔اس کے لئے فضل کا دروازہ کھولا جائے۔اللہ تعالیٰ کی نظر دلوں کی پاتال تک ہے۔اس وجہ سے حق دار کو اس کا حق ضرور ملتا ہے۔کبھی کوئی بے فیض نہیں رہتا۔اس کی نظر سب زمانوں پر بھی ہے۔وہ سب کچھ جانتا ہے کہ آئندہ کیا ہو گا۔۴۲۔الْمَجِيدُ بزرگ۔شریف۔عظمت و بڑائی والا۔مجید وہ ہے جس کی ذات شریف افعال جمیل اور عطا جزیل ہو۔یہ اسم ان معنوں کے لحاظ سے جمیل وہاب اور کریم کا جامع ہے۔فرمایا : اتعجَبِينَ مِنْ اَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللهِ وَبَرَكتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔(هود: ۷۴) فرشتوں نے کہا کہ کیا تو اللہ تعالیٰ کے امر سے تعجب کرتی ہے۔اے ابراہیم کے گھر