صفات باری تعالیٰ — Page 46
یعنی الأسماء الحسنى ہے جیسا کہ فرمایا: أَصْحَابِي كَالنَّجُومِ بِأَتِهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمُ (مشكوة كتاب الفتن مناقب الصحابه) یہ مظاہر تو وہ ہیں جن کے ذریعہ سے نور خدا وندی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چھکا۔گو يانور علی نُور کا نظارہ دنیا نے دیکھا اور بتوں کو توڑ تو ڑ کر تو حید حقیقی کو دلوں میں قائم و دائم کر دیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تو حید ایک نور ہے جو آفاقی وانفسی معبودوں کی نفی کے بعد دل میں پیدا ہوتا ہے اور وجود کے ذرہ ذرہ میں سرایت کر جاتا ہے پس وہ بجز خدا اور اُس کے رسول کے ذریعہ کے محض اپنی طاقت سے کیونکر حاصل ہوسکتا ہے۔انسان کا فقط یہ کام ہے کہ اپنی خودی پر موت وارد کرے اس شیطانی نخوت کو چھوڑ دے کہ میں علوم میں پرورش یافتہ ہوں اور ایک جاہل کی طرح اپنے تئیں تصور کرے اور دعا میں لگا رہے تب توحید کا نور خدا کی طرف سے اُس پر نازل ہوگا اور ایک نئی زندگی اُس کو بخشے گا۔“ ۴۶ ٣٦ الْوَهَّابُ (حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۴۸) عطا کرنے والا۔وھب اور ھبہ کہتے ہیں۔بخشنے اور عطا کرنے کو موصبت بخشش۔وَهَّاب مبالغہ کا صیغہ ہے۔روحانی انعامات اور نبوت وغیرہ سب موہبت ہیں۔اللہ تعالیٰ نے دعا سکھائی: إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ربَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً (آل عمران:۹)