صفات باری تعالیٰ — Page 22
صفات باری تعالى يعنى الأسماء الحسنى نظریں اس تک نہیں پہنچ سکتیں لیکن وہ نظروں تک پہنچتا ہے۔ا - الرَّبُّ مخلوقات کی پرورش کرنے والا اور اس کی تدریجا تکمیل کرنے والا۔سورہ انعام رکوع ۲۰ میں ہے: قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَبْغِى رَبَّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ (الانعام: ۱۶۵) ۲۲ یعنی تو ان سے کہہ دے کہ کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو رب کی حیثیت میں پسند کروں حالانکہ وہ ہر ایک چیز کی پرورش کرنے والا ہے۔پھر سورۃ فاتحہ میں فرما یا رَب العلمین وہ تمام جہانوں کی پرورش کرنے والا ہے۔چاہے وہ عالم سماوی ہو یا ارضی۔عالم اجسام ہو یا عالم ارواح۔عالم جواہر ہو یا عالم اغراض، عالم حیوانات ہو یا عالم جمادات۔سب کا پرورش کہ کنندہ وہی ہے۔چنانچہ اس حقیقت کو قرآن مجید میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے۔فرماتا ہے: قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَا۔(الشعراء:٢٩) وہ مشرق کا بھی رب ہے اور مغرب کا بھی۔اور اس کا بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے۔وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ - (التوبة: ١٢٩) وہ عرش عظیم کا رب ہے۔رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ (الرحمن: ۱۸) - وہ دونوں مشرقوں کا بھی رب ہے اور دونوں مغربوں کا بھی رب ہے۔(سورة الفلق) رَبِّ الْفَلَقِ مخلوقات کارب رَبِّ النَّاسِ۔تمام انسانوں کا رب (سورة الناس) پھر وہ عالم معاد میں بھی قول سلام سے ربوبیت فرمائے گا۔جیسا کہ فرمایا: