صفات باری تعالیٰ — Page 21
یعنی الأسماء الحسنى اپنی ہستی کا آپ ہمیں نشان دیتا ہے۔“ (نسیم دعوت روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۶۰) ۲۱ سورہ فاتحہ میں بیان فرمودہ امہات الصفات میں بھی پہلی صفت رب العالمین ہے اس قاعدہ کلیہ کے تحت کہ باقی صفات ان اُمہات الصفات سے نکلی ہیں۔یا ان امہات الصفات کا مختلف پیرایوں میں اظہار اور خدا تعالیٰ کی شان کے مختلف جلوے مختلف صفات کو جنم دیتے ہیں۔اس اصول سے یہ بات نتیجہ اخذ ہوتی ہے کہ ان چاروں امہات الصفات کے تحت باقی صفات کی تشریح بیان کی جائے لیکن علم اسماء باری تعالٰی اتنا وسیع مضمون ہے کہ اس کی انتہاء تک پہنچنا ہر ایک کا کام نہیں پھر صفات باری چونکہ ایک ذات الہ کی صفات ہیں اور وہ آپس میں بہت مربوط ہیں لہذا یہ کہنا کہ فلاں صفت صرف ربوبیت کے تحت ہے۔رحمانیت یا رحیمیت کے تحت اس صفت کے جلوے ظاہر نہیں ہوتے یا نہیں ہو سکتے درست نہ ہوگا۔جب کہ رحمانیت اور رحیمیت بھی ربوبیت کے جلووں کی درجہ بندی کرتی ہیں۔اور ان کے آگے بہت سے مظاہر ہیں جو مختلف صفات کا لباس پہن کر ہمارے سامنے نمودار ہوتے ہیں۔مالکیت خدا تعالیٰ کی حاکمانہ شان کو ظاہر کرتی ہے۔جس کے تحت بھی بہت سی صفات کام کر رہی ہیں۔پس جیسا کہ خدا تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ - (الرحمن:۳۰) یعنی وہ ہر وقت ایک نئی حالت میں ہوتا۔اس کی ذات وصفات کے جلوے ہر آن نت نئی شان اور آن بان کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔جن کا احاطہ کرنا ناممکن ہے۔کیونکہ یہ ایسا بے کنار سمندر ہے جس میں جتنے بھی غوطے لگائیے کم ہیں۔اور ایک عارف اس سمندر کی مچھلی ہے جو ہر آن خدا تعالیٰ کی سبوحیت کے ترانے گاتا ہے تب خدا تعالیٰ خود اس کو اپنے قریب کر لیتا ہے۔جیسا کہ اس نے فرمایا: لا تدركهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ - (الانعام: ۱۰۴)