صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 23 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 23

یعنی الأسماء الحسنى سَلَمُ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِيمٍ - (يس: ۵۹) ۲۳ ان کو سلام کہا جائے گا جو بار بار کرم کرنے والے رب کی طرف سے ان کی طرف پیغام ہوگا۔پس اللہ تعالیٰ ہر شے کے تقاضوں کو پورا کرتا چلا جا رہا ہے اور اس طرح سے ربوبیت عالمین کے بے پناہ جلوے ہر آن نمودار ہورہے ہیں۔وہ جسمانی ضروریات کے ساتھ ساتھ روحانی ضروریات کی تکمیل کا انتظام بھی فرماتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انزال وحی کو بھی صفت رب کے تحت بیان فرمایا ہے۔(الاحزاب : ۳)۔وہ رب العالمین ہے تو اس نے صفات الہیہ کے کامل مظہر آنحضرت صلی یا یہ تم کو رحمتہ للعالمین بنایا ہے۔۲۔اَلْخَالِقُ ہر چیز کا کامل حکمت کے ساتھ اندازہ کرنے والا۔اس کی خالقیت ایک تو اس طرح سے ہے کہ مادہ سے آگے تخلیق کا سلسلہ چل نکلا اور دوسرے یہ کہ نیست سے ہست میں لانا۔چنانچہ فرمایا: لَهُ الْخَلْقُ وَالْآمُرُ (الاعراف:۵۵) یعنی پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے اور قانون بنانا بھی اسی کا کام ہے پس اس کے ذمہ ہر دو کو پیدا کرنا ہے جس کے ذریعہ سے اس کی ربوبیت عالمین کے تقاضے پورے ہورہے ہیں۔فزکس کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ یہ کائنات بھی پھیلتی چلی جارہی ہے اور ہر آن خلق اور امر کی صفات اپنے جلوے دکھا رہی ہے۔چنانچہ وہ رب ارضین بھی ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات میں جہاں بھی دیگر زمینیں پائی جاتی ہیں اور حیات موجود ہے وہ ان کا بھی خالق ہے اور نہ صرف خالق بلکہ ہر طرح سے ان کی ربوبیت بھی فرما رہا ہے۔