صفات باری تعالیٰ — Page 16
صفات باری تعالى يعنى الأسماء الحسنى طور پر ہو اور۔۔۔شخص فیض یاب کو بطور حق الیقین یہ امر مشہود اور محسوس ہو کہ حقیقت میں وہ مالک الملک ہی اپنے ارادہ اور توجہ اور قدرت خاص سے ایک نعمت عظمی اور لذت کبری اس کو عطا کر رہا ہے اور حقیقت میں اس کو اپنے اعمال صالحہ کی ایک کامل اور دائمی جزا کہ جو نہایت اصفی اور نہایت اعلیٰ اور نہایت مرغوب اور نہایت محبوب ہے مل رہی ہے۔کسی قسم کا امتحان اور ابتلا نہیں ہے۔اور ایسے فیضان اکمل اور اتم اور ابھی اور اعلیٰ اور اجلی سے متمتع ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ بندہ اس عالم ناقص اور مکدر اور کثیف اور تنگ اور منقبض اور نا پائیدار مشتبہ الحال سے دوسرے عالم کی طرف انتقال کرے۔کیونکہ یہ فیضان تجلیات عظمی کا مظہر ہے جن میں شرط ہے کہ محسن حقیقی کا جمال بطور عریاں اور بمرتبہ حق الیقین مشہود ہو۔اور کوئی مرتبہ شہود اور ظہور اور یقین کا باقی نہ رہ جائے۔اور کوئی پردہ اسباب معتادہ کا درمیان نہ ہو۔اور ہر یک دقیقہ معرفت تامہ کا مکمن قوت سے حیر فعل میں آجائے۔اور نیز فیضان بھی ایسا منکشف اور معلوم الحقیقت ہو کہ اس کی نسبت آپ خدا نے یہ ظاہر کر دیا ہو کہ وہ ہر یک امتحان اور ابتلاء کی کدورت سے پاک ہے اور نیز اس فیضان میں وہ اعلیٰ اور اکمل درجہ کی لذتیں ہوں جن کی پاک اور کامل کیفیت انسان کے دل اور روح اور ظاہر اور باطن اور جسم اور جان اور ہر یک روحانی اور بدنی قوت پر ایسا اکمل اور ابھی احاطہ رکھتی ہو کہ جس پر عقلاً اور خیالا اور وہما زیادت متصور نہ ہو۔اور یہ عالم کہ جو ناقص الحقیقت اور مکڈر الصورت اور بالکتۃ الذات اور مشتبہ الکیفیت اور ضیق الظرف ہے۔ان تجلیات عظمیٰ اور انوار اصفی اور عطیات دائمی کی برداشت نہیں کر سکتا۔اور وہ اشعہ تامہ کاملہ دائمہ اس میں سما نہیں سکتے بلکہ اس کے ظہور کے لئے ایک دوسرا عالم درکار ہے کہ جو اسباب معتادہ کی ظلمت سے بکلی پاک اور منزہ اور ذات واحد قہار کی اقتدار کامل اور خالص کا مظہر ہے۔ہاں اس فیضان اخص سے ان کامل انسانوں کو اسی زندگی میں کچھ حظ پہنچتا ہے کہ جو سچائی کی راہ پر کامل طور پر قدم مارتے ہیں اور اپنے نفس کے ارادوں اور خواہشوں سے الگ ہو کر بکلی خدا کی طرف جھک جاتے ہیں کیونکہ وہ مرنے سے پہلے مرتے ہیں اور اگرچہ بظاہر ۱۶