صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 17 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 17

یعنی الأسماء الحسنى ۱۷ صورت اس عالم میں ہیں لیکن در حقیقت وہ دوسرے عالم میں سکونت رکھتے ہیں۔پس چونکہ وہ اپنے دل کو اس دنیا کے اسباب سے منقطع کر لیتے ہیں اور عادات بشریت کو تو ڑ کر اور بیکبارگی غیر اللہ سے مونہہ پھیر کر وہ طریق جو خارق عادت ہے اختیار کر لیتے ہیں اس لئے خداوند کریم بھی ان کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتا ہے اور بطور خارق عادت ان پر اپنے وہ انوار خاصہ ظاہر کرتا ہے کہ جو دوسروں پر بجز موت کے ظاہر نہیں ہو سکتے۔غرض بباعث امور متذکرہ بالا وہ اس عالم میں بھی فیضان اخص کے نور سے کچھ حصہ پالیتے ہیں اور یہ فیضان ہر یک فیض سے خاص تر اور خاتمہ تمام فیضانوں کا ہے۔اور اس کو پانے والا سعادت عظمی کو پہنچ جاتا ہے اور خوشحالی دائی کو پالیتا ہے جو تمام خوشیوں کا سر چشمہ دوسری جگہ بھی ارشاد فرما کر کہا ہے: لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ - (المومن : ۱۷) یعنی اس دن ربوبیت الہیہ بغیر توسط اسباب عادیہ کے اپنی تجلی آپ دکھائے گی۔اور یہی مشہود اور محسوس ہوگا کہ بجز قوت عظمیٰ اور قدرت کاملہ حضرت باری تعالیٰ کے اور سب بیچ ہیں۔تب سارا آرام وسرور اور سب جزا اور پاداش بنظر صاف و صریح خدا ہی کی طرف سے دکھلائی دے گا اور کوئی پردہ اور حجاب درمیان نہیں رہے گا اور کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں رہے گی تب جنہوں نے اس کے لئے اپنے تئیں منقطع کر لیا تھا وہ اپنے تئیں ایک کامل سعادت میں دیکھیں گے کہ جو ان کے جسم اور جان اور ظاہر اور باطن پر محیط ہو جائے گی اور کوئی حصہ وجود ان کے کا ایسا نہیں ہوگا کہ جو اس سعادت عظمی کے پانے سے بے نصیب رہا ہو۔اور اس جگہ مالک یوم الدین کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس روز راحت یا عذاب اور لذت یا درد جو کچھ بنی آدم کو پہنچے گا اس کا اصل موجب خدائے تعالیٰ کی ذات ہوگی اور مالک امر