صفات باری تعالیٰ — Page 15
یعنی الأسماء الحسنى ہیں۔رحیمیت ، ربوبیت اور استعداد معرفت کے مطابق سلوک ہوتا ہے اور رحمانیت ربوبیت کی وہ عام قسم ہے جس میں رحمت باری کی ایک عام ہوا چلتی ہے۔قومی کے کسب و عمل و کوشش کا کوئی دخل نہیں۔لیکن مورد رحم زیر رحیمیت ہونے کے لئے اعمال صالحہ کے بجالانے اور تزکیہ نفس حاصل کرنے ریا وغیرہ سے بکلی مجتنب رہنے اور خلوص کے کمال اور طہارت قلب کی ضرورت ہے تا خدائے ذوالجلال کی اس صفت رحیمیت کا پر تو ظاہر ہو۔جب تک موت کے قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو جائے اس کا ورود نہیں ہوتا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام فرماتے ہیں: پس مبارک ہیں وہ لوگ جنہیں ان نعمتوں سے حصہ ملا بلکہ وہی اصل انسان اور باقی تمام لوگ تو چارپایوں کی طرح ہیں۔“ (اعجاز البح) سچ ہے خدا تعالیٰ کی کی ذات وصفات کا عرفان ہی ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے بلکہ ایسا انسان مزید ترقی کرتا ہے اور پھر عرفان کے سمندر میں غوطہ زن ہو کر خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر اور خدا نما بن جاتا ہے۔اور ایسے وجودوں کو دیکھ کر خدا یاد آتا ہے۔گویا وہ خدا تعالیٰ کی تصویر بن جاتے ہیں۔اور سب سے کامل مظہر ان صفات باری کے ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی اسلامی ایام تھے۔جنہوں نے دنیا میں آکر خدا تعالیٰ کے پوشیدہ چہرے کو عریاں کر دکھایا۔چنانچہ آپ صلی یہ ہم نے ہی فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ۹۹ نام ہیں۔مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ ( متفق عليه ) یعنی جس نے انہیں شمار کیا ان کے معانی پر اطلاع پائی۔ان کا عرفان حاصل کیا۔وہ جنت میں داخل ہو گیا۔چوتھی اُم الصفات مالکیت کا فیضان اس آخری فیضان میں کہ جو تمام فیوض کا خاتمہ ہے جو کچھ پہلے فیضانوں کی نسبت عند العقل زیادتی اور کمالیت متصور ہو سکتی ہے وہ یہی ہے کہ یہ فیضان نہایت منکشف اور صاف ۱۵