صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 8 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 8

یعنی الأسماء الحسنى مضمون کھلتا ہے۔” خدا تعالیٰ کا ذاتی نام اللہ ہے اور اللہ اُس ذات کا نام ہے جس کی تمام خوبیاں حسن و احسان کے کمال کے نقطہ پر پہنچی ہوئی ہوں اور کوئی منقصت اُس کی ذات میں نہ ہو۔قرآن شریف میں تمام صفات کا موصوف صرف اللہ کے اسم کو ہی ٹھہرایا ہے تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اللہ کا اسم تب متحقق ہوتا ہے کہ جب تمام صفات کا ملہ اس میں پائی جائیں۔“ ایام اصلح روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۴۷) اللہ جس کا ترجمہ ہے ” وہ معبود۔یعنی وہ ذات جو غیر مدرک اور فوق العقول اور وراء الوراء اور دقیق در دقیق ہے جس کی طرف ہر ایک چیز عابدانہ رنگ میں یعنی عشقی فنا کی حالت میں جو نظری فنا ہے یا حقیقی فنا کی حالت میں جو موت ہے رجوع کر رہی ہے۔“ (تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۷ صفحه ۲۶۸) ذاتی نام کے علاوہ خدا تعالیٰ کے صفاتی نام احادیث رسول صلی یا کہ تم میں ۹۹ بیان کئے گئے ہیں جن میں سے ۲۹ تو ایسے ہیں جو لفظاً قرآن مجید میں موجود نہیں البتہ ان کے مشتقات ہیں اور ۷۰ نام بجنسم موجود ہیں۔اس وقت خدا تعالیٰ کی صرف ان چار صفات کا تذکرہ مقصود ہے جو سورہ فاتحہ میں بیان ہیں اور جنہیں اُمہات الصفات کہا گیا ہے۔سورہ فاتحہ ہر رکعت نماز میں پڑھی جاتی ہے۔بزرگان دین اور اولیاء اللہ نے اس کے بار بار دہرانے کو روحانی مقاصد کے لئے مفید بتایا ہے۔سچ ہے خدا تعالیٰ نے اپنی ذات کا تعارف ابتدائے قرآن کریم میں چار صفات کے ذریعہ فرمایا ہے اور باقی کی تمام صفات کسی نہ کسی صفات کے ذیل میں آتی ہیں جیسے سورۃ فاتحہ ام الکتاب ہے جس کی سات آیات کی تفسیر قرآن کریم ہے یا یہ کہ دیں کہ قرآن کریم کا خلاصہ