صفات باری تعالیٰ — Page 7
یعنی الأسماء الحسنى حسن و احسان کا منبع۔خدا تعالیٰ کی صفات اربعہ انسانی پیدائش کا مقصد خدا تعالیٰ کا عرفان حاصل کرنا ہے اور اس کا عبد بنا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً (البقرة : 139 ) اللہ تعالیٰ کا رنگ اختیار کرو اور خدا تعالیٰ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہو سکتا ہے۔پس خدا تعالیٰ کا رنگ اپنے اوپر چڑھانے کے لئے اس کا عرفان حاصل کرنا ضروری ہے اور عرفان الہی اس کی صفات کو جانے ، ان پر غور کرنے اور اسی کی ان صفات کے جلوے اپنے گرد و بیش دیکھتے رہنے سے حاصل ہوتا ہے۔جس کی دعوت اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جا بجادی۔مثلاً فرمایا: وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ (آل عمران : 192) ”خدا تعالیٰ کی صفت خلق کا مظاہر جو تمہارے گرد و پیش عالمین میں بکھرے پڑے ہیں ان میں فکر کرو اور دیکھو کیسے اس نے زمین و آسمان کو اور پھر ان میں دیگر آسمان کو اور پھر ان میں دیگر ان گنت مخلوقات کو پیدا کیا اور انہیں اپنی حکمت کاملہ کے ساتھ تخلیق کیا اور اپنے خالق ہونے نیز الباری اور المصور ہونے کا اعلیٰ درجے کا ثبوت فراہم کیا۔خدا تعالیٰ کی تمام صفات اندرونی طور پر ایک دوسرے سے مربوط ہیں کیونکہ وہ سب ایک ہی ہستی کی صفات اور مختلف پر تو ہیں اسی لئے خدا تعالیٰ کی ایک صفت کا جلوہ دیگر بہت سی صفات کی طرف رہنمائی کرتا ہے جیسے کہ وہ عزیز ہے اسی کا غلبہ قدرت مخلوق پر مستولی ہے۔وہ جبار ہے۔ہر ٹوٹ پھوٹ کے جوڑ نے جاڑنے کا انتظام اس نے کر چھوڑا ہے۔غرضیکہ اس کی صفات کے جلووں کا مطالعہ کرنے اور اس کی صفات پر غور کرنے سے انسانی عقل کی رہنمائی واحد فی الذات الہ کی طرف ہوتی ہے اور توحید باری تعالیٰ کا ۷