صفات باری تعالیٰ — Page 9
یعنی الأسماء الحسنى جس طرح سورۃ فاتحہ ہے اسی طرح امہات الصفات اپنے اندر دیگر صفات کو لئے ہوئے ہیں چنانچہ کے مضمون کو امہات الصفات کے چار ابواب میں باندھ دیا گیا ہے اس اصول کو سمجھنے کے بعد امہات الصفات اور صفات الہی کے مضمون کا سمجھنا کافی آسان ہو جاتا ہے اور اس اصول کے تحت قرآن کریم میں بیان شدہ صفات پر غور کرنے سے عرفان الہی میں ترقی ہوتی ہے۔وباللہ التوفیق صفات باری سے کس طرح استفادہ کیا جا سکتا ہے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام فرماتے ہیں: پھر اس سورت میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ صفات باری۔تعالیٰ اس کے مطابق اثر دکھاتی ہیں۔جتنا بندہ کو ان پر ایمان ہو اور جب کوئی عارف خدا تعالیٰ کی صفات میں سے کسی صفت کی طرف توجہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کو اپنی روحانی آنکھ سے دیکھ لیتا ہے اور اس پر ایمان لے آتا ہے پھر ایمان لے آتا ہے۔یہاں تک کہ وہ اپنے ایمان میں فنا ہو جاتا ہے تو اس صفت کی روحانی تاثیر اس کے دل میں داخل ہو جاتی ہے اور اس پر قبضہ کر لیتی ہے۔تب سالک مشاہدہ کرتا ہے کہ اس کا سینہ غیر اللہ کی محبت سے خالی ہے اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ہے اور اس کی زندگی محسن خدا کی یاد کی وجہ سے نہایت خوشگوار بن گئی ہے پس وہ ہر لحاظ سے خوش و خرم ہو جاتا ہے پھر اس پر اس صفت کی مزید تجلی ہوتی ہے اور وہ اس پر چھا جاتی ہے یہاں تک کہ ایسے بندہ کا دل اس صفت کا عرش بن جاتا ہے اور نفسانیت کا رنگ بالکل ڈھل جانے اور بندہ کے فانی فی اللہ ہونے کے بعد اس کا دل اس صفت کے رنگ میں خوب رنگین ہو جاتا ہے۔“ ( ترجمه از کرامات الصادقین صفحه ۸۴،۸۳) ۹