صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 110 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 110

عباد الرحمان کی خصوصیات حقوق العباد میں اعتدال سے نہ چلنے سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ عباد الرحمان زمین میں آرام سے چلتے ہیں تکبر نہیں کرتے۔نیک اخلاق کا نمونہ ہوتے ہیں اور جاہلوں کے لئے بھی مجسم رحمت ہوتے ہیں۔پھر فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا - وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا - إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرٌّا وَ مُقَامًا - (الفرقان: ۶۵ تا ۶۷) ترجمہ: اور وہ لوگ بھی جو اپنے رب کے لئے راتیں سجدوں میں اور کھڑے ہو کر گذار دیتے ہیں اور وہ ( یعنی رحمن کے بندے) کہتے ہیں اے ہمارے رب ہم سے جہنم کا عذاب ٹلا دے اس کا عذاب ایک بہت بڑی تباہی ہے۔وہ دوزخ عارضی ٹھکانہ کے طور پر بھی بری ہے اور مستقل ٹھکانہ کے طور پر بھی بری ہے) زیادہ دیر مقام کے لئے بھی برا مقام ہے۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ ان آیات کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں : وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا وہ لوگ جو اپنی راتیں خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ و قیام کرتے ہوئے گذار دیتے ہیں۔اس میں جہاں عباد الرحمن کی یہ خصوصیت بتائی گئی ہے کہ وہ مصائب اور مشکلات کے اوقات میں جو رات کی تاریکیوں سے مشابہت رکھتے ہیں دُعاؤں اور گریہ وزاری سے کام لیتے اور خدا تعالیٰ کے آستانہ پر مجھکے رہتے ہیں۔وہاں اس میں تہجد کی ادائیگی بھی عباد الرحمن کا شعار قرار دیا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ اُن کی راتیں خراٹے بھرتے ہوئے نہیں گذرتیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی یاد اور اُس کی محبت اور عبادت میں گذرتی ہیں۔وہ جسمانی تاریکی کو دیکھ کر ڈرتے ہیں کہ کہیں اُن پر روحانی تاریکی بھی نہ آجائے اور وہ دعاؤں اور استغفار اور انابت سے خدا تعالیٰ کی رحمت کو جذب