صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 109 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 109

۹ عباد الرحمان کی خصوصیات پھر آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: پس ہماری جماعت کو مناسب ہے کہ وہ اخلاقی ترقی کریں، کیونکہ الْإِسْتِقَامَةُ فَوْقَ الْكَرَامَةِ مشہور ہے۔وہ یاد رکھیں کہ اگر کوئی ان پر سختی کرے۔تو حتی الواسع اس کا جواب نرمی اور ملاطفت سے دیں۔تشدد اور جبر کی ضرورت انتظامی طور پر بھی نہ پڑنے دیں۔انسان میں نفس بھی ہے اور اس کی تین قسم ہیں۔اماره لوامه، مطمئنه امارہ کی حالت میں انسان جذبات اور بے جا جوش کو سنبھال نہیں سکتا اور اندازہ سے نکل جاتا اور اخلاقی حالت سے گر جاتا ہے۔مگر حالت لوامہ میں سنبھال لیتا ہے۔مجھے ایک حکایت یاد آئی جو سعدی نے بوستاں میں لکھی ہے۔کہ ایک بزرگ کو ایک کتے نے کاٹ لیا ، تو گھر والوں نے دیکھا کہ اسے کتے نے کاٹ کھایا ہے۔ایک بھولی بھالی چھوٹی لڑکی بھی تھی۔وہ بولی۔آپ نے کیوں نہ کاٹ کھایا ؟ اس نے جواب دیا۔بیٹی ! انسان سے گٹ پن نہیں ہوتا۔اسی طرح سے انسان کو چاہیے کہ جب کوئی شریر گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے۔نہیں تو وہی گٹ پن کی مثال صادق آئے گی۔خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئیں۔بہت بری طرح ستا یا گیا، مگر ان کو أَعْرِضْ عَنِ الْجَھلِین کا ہی خطاب ہوا۔“ عبادالرحمان کی تیسری خصوصیت ( ملفوظات جلد اول صفحه (۶۴) دنیا میں انسان کو دو قسم کے حقوق ادا کرنے پڑتے ہیں۔کچھ حقوق وہ ہیں جو مخلوق خدا سے متعلق ہیں جنہیں حقوق العباد کہتے ہیں۔دوسری قسم کے حقوق اللہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے عبادالرحمان کی صفات بیان فرماتے ہوئے پہلے ان دو صفات کا ذکر فرمایا تھا۔جو حقوق العباد سے متعلق ہیں۔اس تقدم سے بھی حقوق العباد کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔بہت سی بد اخلاقیاں