صفات باری تعالیٰ — Page 111
عباد الرحمان کی خصوصیات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے نماز تہجد کی اہمیت ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ اِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْاً وَ أَقْوَمُ قِيلًا ( مزمل ۱۴) یعنی رات کا اٹھنا انسانی نفس کو مسلنے میں سب سے زیادہ کامیاب نسخہ ہے اور رات کو خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گرے رہنے والوں کی روحانیت ایسی کامل ہو جاتی ہے کہ وہ ہمیشہ سچ کے عادی ہو جاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز تہجد کا اس قدر خیال رہتا تھا کہ بعض دفعہ رات کو اُٹھ کر چکر لگاتے اور دیکھتے کہ کون کون تہجد پڑھ رہا ہے۔ایک دفعہ مجلس میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا ذکر آگیا کہ وہ بڑی خوبیوں کے مالک ہیں۔آپ نے فرمایا ہاں بڑا اچھا ہے بشرطیکہ تہجد بھی پڑھے۔معلوم ہوتا ہے اُن دنوں حضرت عبد اللہ بن عمر" تہجد پڑھنے میں سستی کرتے ہوں گے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ذریعہ سے انہیں توجہ دلائی کہ وہ اپنی اس شستی کو دور کریں۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اُسی دن سے تہجد کی نماز میں با قاعدگی اختیار کر لی۔رضة الله (بخاری کتاب فضائل الصحابه مناقب عبد الله بن عمر ) ایک دفعہ رات کے وقت آپ اپنے داماد حضرت علی اور اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کے گھر گئے اور باتوں باتوں میں دریافت فرمایا کہ کیا تم تہجد پڑھا کرتے ہو۔حضرت علی نے کہا یا رسول اللہ ! پڑھنے کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن جب خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت کسی وقت آنکھ نہیں کھلتی تو نماز رہ جاتی ہے۔آپ اُسی وقت اُٹھ کر اپنے گھر کی طرف چل پڑے اور بار بار فرماتے وَكَانَ الْإِنْسَانُ اكْثَرَ شَيءٍ جَدَلًا (بخاری کتاب التهجد باب تحريص النبى على صلوة الليل والنوافل۔۔۔) 11