صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 103 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 103

عباد الرحمان کی خصوصیات كُنتُ سَمعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا وَإِنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ وَلَيْنِ اسْتَعَاذَنِي لَا عِيدَنَّهُ - (بخاری کتاب الرقاق باب التواضع) ”خدا ان لوگوں کے کان بن جاتا ہے جس سے وہ سنتے ہیں اور آنکھیں بن جاتا ہے جن سے وہ دیکھتے ہیں اور ہاتھ بن جاتا ہے جن سے وہ پکڑتے ہیں اور جب وہ سوال کرتے ہیں تو ان پر انعام واکرام کی بارش برسائی جاتی ہے۔اور جب پناہ لیتے ہیں تو پناہ دی جاتی ہے۔اور ہر شر سے ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔“ در حقیقت عباد الرحمن کے اعمال خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔ان کے اعضاء پر ایک قدرتوں والی اعلیٰ ہستی کا تصرف ہوتا ہے۔جس کی منشاء کے مطابق ان کی زندگی گزرتی ہے۔ان سے مخالفت خدا تعالیٰ سے لڑائی مول لینے کے مترادف ہوتی ہے جیسے کہ فرمایا: مَنْ عَادَلِي وَلِيًّا فَقَدْ أَذَنْتُهُ لِلْحَرْبِ عبادالرحمن کی پہلی خصوصیت (بخاری کتاب الرقاق باب التواضع) اللہ تعالیٰ نے سورہ فرقان کے آخری رکوع میں عباد الرحمان کی خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔اگر ان کو مدنظر رکھا جائے اور کشش کی جائے کہ یہ صفات پیدا ہو جائیں تو یقینا انسان خدائے رحمان کا عبد کامل بن کر اس کی صفات کا مظہر بن سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ عِبَادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سَلَمًا - (الفرقان: ۶۴) اور رحمان کے بچے بندے وہ ہوتے ہیں جو زمین پر آرام سے چلتے ہیں ( یعنی تکبر کے ساتھ نہیں چلتے اور جب جاہل لوگ ان سے مخاطب ہوتے