صفات باری تعالیٰ — Page 102
عباد الرحمان کی خصوصیات عبادالرحمن کی خصوصیات سب سے پہلا سبق جو آدم کو سکھایا گیا وہ اطاعت و فرمانبرداری ، عبادت اور فروتنی و انکساری و انانیت کو کچلنے کا سبق تھا۔اور سب سے پہلے جس خطر ناک اور مہلک ترین کمزوری کا علم آدم کو دیا گیا وہ تکبر اور انانیت تھی یہی بد اخلاقی تمام دیگر بد اخلاقیوں کو پیدا کرتی ہے اس کے برخلاف اطاعت وفرمانبرداری ، فروتنی و انکساری عبادت وریاضت سے ہی اخلاق عالی جنم لیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: کمال عبد انسان کا یہی ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو جاوے اور جب تک اس مرتبہ تک نہ پہنچ جاوے نہ تھکے نہ ہارے اس کے بعد خود ایک کشش اور جذب پیدا ہو جاتی ہے جو عبادت الہی کی طرف اسے لے جاتی ہے اور وہ حالت سجدہ اس پر وارد ہو جاتی ہے جو يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ کی ہوتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد دوئم صفحه ۱۳۳) ایسے تمام انسان جو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی صفات کا رنگ چڑھاتے ہیں خدائے رحمان کی رحمانیت کے مظہر بن جاتے ہیں اور عباد الرحمان کہلاتے ہیں کیونکہ وہ اخلاق حمیدہ اور اوصاف کریمہ کے مالک ہوتے ہیں ان کے اعمال میں اللہ تعالیٰ کے حسن اخلاق کا پر تو ہوتا ہے جسے حاصل کرنے کے لئے لاٹھے محض ہو چکے ہوتے ہیں تبھی تو فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا جاتا ہے۔عباد الرحمان کے سب فیض خدائے رحمان کے فیض کے چشمہ رواں سے آتے ہیں اور بہتوں کی پیاس کو دور کر کے سیرابی کا موجب بنتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ان کا وجود آلہ کار کی طرح ہوتا ہے۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ: