صفات باری تعالیٰ — Page 104
عباد الرحمان کی خصوصیات ہیں (یعنی جہالت کی باتیں کرتے ہیں ) تو وہ ( لڑتے نہیں) بلکہ کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے لئے سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔“ خدائے رحمان کے سچے بندوں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں فروتنی و انکساری اور تواضع پائی جاتی ہے۔تکبر سے وہ نا آشنا ہوتے ہیں۔ان پر فقر کی حالت ہو یا امارت کی ہو اور دولت کی ریل پیل ہو غربت وفاقہ کشی کا عالم ہو۔ان کے اوصاف کریمہ میں ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا۔ان کی مثال اس ثمر دار درخت کی طرح ہوتی ہے جو شمر دار ہونے کے بعد خمید ہو کر کمزوروں اور ضعیفوں کے قریب ہو جاتا ہے۔تا وہ بآسانی اس کے شیریں پھلوں اور اس کی مٹھاس، اس کی لطافت اور اس کی خوشبو سے فائدہ اٹھا سکیں اور تسکین واطمینان ، تازگی و فرحت و انبساط حاصل کرسکیں۔اللہ تعالیٰ نے يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ فرمایا ہے فِي الْأَرْضِ نہیں فرمایا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اقتدار کی حالت میں بھی احتیاط کا پہلو ترک نہیں کرتے۔گویا ان میں طاقت اور قوت تو ہوتی ہے مگر اس کا غلط استعمال نہیں کرتے۔کوئی قوم یا فردان کے قدموں تلے روندی نہیں جاتی۔چونکہ وہ نیکی اور پارسائی کے مجسمہ ہوتے ہیں اس لئے يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ ھونا کا مصداق ہوتے ہیں۔اس میں نصیحت بھی ہے کہ جب اسلام کو غلبہ حاصل ہو تو مسلمانوں کو یہ خصوصیت مد نظر رکھنی چاہیے۔ہلاکو خان اور چنگیز خان کی طرح بستیاں ویران اور آبادیاں تہ تیغ کرنے والے نہ ہوں بلکہ فروتنی، انکسار سے کام لینے والے بنیں اور ہر قسم کے آبی و استکبار سے بچیں۔یہی نصیحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کی ہے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ تکبر سے بچو کیونکہ تکبر ہمارے خداوند ذوالجلال کی آنکھوں میں سخت مکروہ ہے۔مگر تم شاید نہیں سمجھو گے کہ تکبر کیا چیز ہے۔پس مجھ سے سمجھ لو کہ میں خدا کی رُوح سے بولتا ہوں۔ہر ایک شخص جو اپنے بھائی کو اس لئے حقیر جانتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ عالم یا زیادہ منظمند یا زیادہ