صفات باری تعالیٰ

by Other Authors

Page 90 of 153

صفات باری تعالیٰ — Page 90

یعنی الأسماء الحسنى جلد ممکن ہو جائے۔فرمایا: وَمَنْ يَكْفُرُ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (آل عمران: ۲۰) پس جو شخص آیات اللہ کا انکاری ہے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔پھر فرمایا: أُولَئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمُ عِنْدَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ١٣٠_ أَسْرَعُ الْحَاسِبِيْنِ (آل عمران: ۲۰۰) ٩٠ فرمایا: یہ بھی اسی قسم کی ایک اور تجلی اور شان ہے۔قرآن کریم میں ایک ہی جگہ یہ اسم آیا ہے۔ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللهِ مَوْلَا هُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِيْنَ (الأنعام: ۶۳) پھر وہ سب کے سب اپنے مولی حقیقی اللہ تعالیٰ کی کی طرف واپس لوٹیں گے۔جان رکھو! کہ حکم اسی کے لئے سزاوار ہے اور وہ تمام حساب کرنے والوں سے جلد تر حساب کرنے والا ہے۔کسی قسم کی گڑ بڑ کا امکان نہیں۔جس طرح دنیا میں دنیا والے بعض اوقات بعض کی حق تلفی کرتے ہیں یا بعض کو جزا سے ناجائز طور پر بچالیتے ہیں۔ایسا اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں ہوتا۔١٣١ - اَلْحَكَمْ مخلوقات کا حاکم صحیح فیصلہ کرنے والا۔فرمایا: وَاللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقَبَ لِحُكْبِهِ - (الرعد: ۴۲) اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حکم بنا کر بھیجا یعنی اس صفت کا مظہر۔آپ نے ۷۲ فرقوں کو انصاف سے بتایا کہ کون سا مسلک درست ہے کونسا غلط ہے۔