صفات باری تعالیٰ — Page 91
یعنی الأسماء الحسنى ١٣٢ _ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينِ حاکموں کا حاکم۔سب سے بہتر اور درست فیصلہ کرنے والا۔فرمایا: وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَانْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ (هود: ۴۶) اور نوح نے اپنے رب کے حضور التجا کی کہ اے میرے رب میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے۔اور تو سب حاکموں کا حاکم ہے۔پھر سورہ التین میں فرمایا : ألَيْسَ اللهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ ۱۳۳ - خَيْرُ الْفَاصِلِين سب فیصلہ کرنے والوں میں سے افضل۔فرمایا: (التين:٩) اِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ يَقُصُّ الْحَقِّ وَهُوَ خَيْرُ الْفَاصِلِينَ (الأنعام: ۵۸) اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں چلتا۔وہ ہی سچی بات اور حق و حکمت سے بھری ہوئی بات بیان کرتا ہے اور وہ ہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔۱۳۴ - اَلْقَاضِي صحیح صحیح فیصلہ کرنے والا۔فرمایا: وَاللَّهُ يَقْضِي بِالْحَقِّ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَقْضُونَ بِشَيْءٍ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ - (المؤمن: ٢١) اور اللہ تعالیٰ حق و حکمت سے بھرا ہوا فیصلہ کرتا ہے۔اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہیں۔وہ کچھ بھی فیصلہ نہیں کر سکتے۔بے شک اللہ تعالی ہی سمیع و بصیر ہے۔اس لئے صحیح فیصلہ وہی کر سکتا ہے۔۹۱