صدق المسیح — Page 15
66 پڑھا ہے۔" چوتھا جھوٹ مفتی صاحب مؤلف فولڈر نے اخلاق اور خوف خدا کو بالائے طاق رکھ کر حضرت مرزا صاحب پر یہ بے بنیاد الزام عائد کیا۔مفتی صاحب اپنے فولڈر میں لکھتے ہیں: مرزا نے اپنے بارے میں لکھا ہے کہ ”میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی ہے کہ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی ایام اصلح در روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۹۴) حالانکہ وہ با قاعدہ ایک شخص نہیں بلکہ کئی استاذوں سے پڑھا ہے۔خود مرزا نے لکھا ہے کہ ”جب میں سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائی اس بزرگ کا نام فضل الہی تھا۔جب میری عمر دس سال کی ہو گئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے جنکا نام فضل احمد تھا۔پھر سترہ اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا اُن کا نام گل علی شاہ تھا۔“ ( کتاب البریه حاشیه صفحه ۱۴۸ تا صفحه ۱۵۰ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۷۹ حاشیه ) ہر دو حوالہ جات تحریر کر کے نتیجہ یہ نکالا ہے: مرزا نے کہا کہ میرا کوئی استاد نہیں جبکہ خود کہہ چکا ہے کہ ایک بزرگ فضل الہی میرے لئے نوکر رکھا تھا تا کہ قرآن شریف پڑھائے جھوٹ بھی ملاحظہ کیجئے اور استاذ بزرگ کونوکر بنانے کا انداز احترام بھی ملاحظہ کیجیئے۔جوار صدق امسیح الموعود :۔بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ نبی کا امی (آن پڑھ ) ہونا 15