صدق المسیح — Page 14
الياس الطون صفحہ ۲۸۹ جہاں لکھا ہے طاعون Plague یعنی پلیگ کے معنی طاعون ہے۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دابۂ کیڑے کو مسیح موعود کے زمانہ کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔حضرت بانی جماعت احمدیہ نے ۱۸۹۰ء میں مسیح موعود ہونے کا اعلان اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا جب عامۃ الناس کو آپ کے اعلان سے آگاہی ہوئی اور ۱۸۹۴ء اور ۱۸۹۵ء میں رمضان کے مہینے میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق چاند اور سورج کو گرہن لگ گیا اور اتمام حجت ہو گیا تو ۱۸۹۶ء کے آخر میں بمبئی سے طاعون کی وباء شروع ہوئی اور ملک کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔سینکڑوں افراد اس عذاب الہی کا شکار ہوئے لیکن جو لوگ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہو گئے وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے وعدہ إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّار کے مطابق طاعون سے بچائے گئے۔حضرت احمد علیہ السلام نے اپنی جماعت کے افراد کو طاعون کا ٹیکہ لگوانے سے بھی منع فرما دیا تھا باقی لوگوں نے ٹیکہ لگوایا اسکے باوجود مرے اور افراد جماعت اللہ کے فضل و کرم سے محفوظ رہے۔قرآن مجید کی اور آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی بڑی صفائی سے پوری ہوئی اور جہاں تک توریت اور انجیل کا تعلق ہے اسکے حوالہ جات مذکورہ بالا جواب میں دے دئے گئے ہیں البتہ حضرت مسیح موعود کی جو عبارت پیش کی گئی ہے۔اسی میں حضور علیہ السلام فرماتے ہیں سیح موعود کے وقت میں طاعون کا پڑنا بائیل کی کتابوں میں زکریا ۱۲/۱۴ انجیل متی ۲۸/ ۸ مکاشفات ۸/۲۲ میں موجود ہے۔اسکے بعد قارئین خود فیصلہ فرما دیں کہ اسمیں جھوٹ کہاں ہے اور اگر جھوٹ ہے تو وہ کس نے بولا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:- تو نے طاعون کوبھی بھیجا میری نصرت کے لئے * تاوہ پورے ہوں نشان جو ہیں سچائی کا مدار 14