صدق المسیح — Page 16
ضروری ہے کیونکہ اگر وہ کسی سے کوئی علم سیکھ لے تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ وہ استاد سے کم درجہ پر ہے جیسا کہ مولوی مفتی نذیر قاسمی صاحب کا بھی خیال ہے۔یہ خیال بالکل بے بنیاد ہے کیونکہ قرآن کریم اور حدیث صحیح سے اس خیال کی تائید نہیں ہوتی قرآن کریم میں تو صرف نبی کریم کو النبی الامی (سورہ الاعراف: ۱۵۶) کہا گیا ہے۔کسی دوسرے نبی کو اُمی ( ان پڑھ ) نہیں کہا گیا گویا یہ حضور پر نور کی ایک خصوصیت ہے جو دوسرے کسی نبی کو حاصل نہیں اگر یہ مان لیا جائے کہ تمام انبیاء ہی اُمی تھے اور صرف اللہ تعالیٰ نے انہیں علم عطا فرمایا تھا تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص برتری ختم ہو جاتی ہے۔حضور نے خود بھی فرمایا۔أَنَا النَّبِيِّ الْأُمِّي“ ( الجامع الصغیر جز اصفحہ ۱۷) کہ میں ہی نبی امی ہوں“ پھر ایسا عقیدہ اور ایسا خیال واقعات کے خلاف بھی ہے۔حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بخاری شریف میں آتا ہے: وَشَبَّ الْغُلَامُ وَتَعَلَّمَ الْعَرَبِيَّةَ مِنْهُمْ۔( حدیث بخاری ج ۲ صفحه ۱۴۷ مطبوعہ مصر کتاب بدء الخلق ) یعنی کہ جب حضرت اسماعیل جوان ہوئے تو انہوں نے جرہم قبیلہ کے لوگوں سے عربی سیکھی۔سید رشید رضا مفتی مصر اپنی مشہور و معروف کتاب الوحی المہدی میں لکھتے ہیں : ثُمَّ يَرَى النَّاظِرُ أَنَّ سَائِرَ الْأَنْبِيَاءِ الْعَهْدِ القَدِيمِ كَانُوا تَابِعِيْنَ لِلتَّوْرَاةِ مُتَعَبْدِيْنَ بهَا وَإِنَّهُمْ كَانُوا يَتَدَارَ سُوْنَ تَفْسِيْرَهَا فِي مَدَارِسَ خَاصَّةٍ بِهِمْ وَبِأَبْنَا تِهِمْ مَعَ عُلُوْمٍ أُخْرَى فَلا يَصِحُ اَنْ يُذْكَرَ اَحَدٌ مِنْهُمْ مَعَ مُحَمَّدٍ ( صفحه ۶ او صفر ۱۳)۔یعنی کہ ہر ایک غور کرنے والا سمجھ سکتا ہے کہ تو رات میں ذکر شدہ انبیاء تو رات کے پیرو 16