شہدائے احمدیت — Page 88
خطبات طاہر بابت شہداء کے متعلق یہ ہیں:۔83 خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۹۹ء میں آج ایک دین کی خدمت میں جان دینے والے عزیز کی یاد کے لئے اور دوستوں کو اس کے لئے دعا کی تحریک کرنے کے واسطے خطبہ پڑھنے لگا ہوں۔وہ دوست جس کو خدمت دین میں شہادت ملی ہے وہ ہمارا عزیز بچہ عبید اللہ ہے ( خطبات محمود جلد ۸ صفحه: ۲۵۹) یہ حافظ بشیر الدین صاحب عبید اللہ کے والد تھے اور ان کی ساری اولاد آگے جو سلسلہ جاری ہوا ہے یہ انہیں کی پاک ذریت میں سے ہیں۔اللہ ان کو جزا دے۔خدا تعالیٰ نے ان کی اولا د پر بڑی برکتیں نازل فرمائی ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اکثر خدمت دین کرنے والے ہیں۔شاید ہی کوئی ہو میرے علم میں نہیں جسے خدمت دین کی توفیق نہ مل رہی ہو۔اگر نہیں مل رہی تو دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کو خدمت دین کرنے والوں میں شامل فرما دے۔یہ اس وقت سب دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس شہادت کو ظاہری ، دنیوی لحاظ سے بھی بہت رنگ لگائے ہیں اور دینی لحاظ سے بھی جیسا کہ میں نے عرض کیا بہت رنگ لگائے ہیں۔الحاج مولوی محمد دین صاحب آخر پر الحاج مولوی محمد دین صاحب کا ذکر کرتا ہوں جو حضرت ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب صحابی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے منجھلے بیٹے تھے ، آپ کو ۱۹۳۶ء میں وقف کی توفیق ملی اور آپ کا پہلا وقف تین سال کے لئے تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کو البانیہ تبلیغ کے لئے بھجوایا تھا۔اس زمانے میں دیکھیں کہاں کہاں حضرت مصلح موعوددؓ کا ذہن پہنچتا تھا اور کن کن ملکوں تک آپ کی رسائی تھی اور البانیہ میں جواب شہادتوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس کا بھی آغاز احمدی کے ذریعہ ہی ہوا تھا یعنی ایک احمدی مبلغ کو سب سے پہلے وہاں جا کر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر پہنچنے کی توفیق ملی تھی۔اگر چہ اس ملک میں وہ شہید نہیں ہوئے لیکن آغاز انہیں سے ہوا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے آپ کو ۱۸ نومبر ۱۹۴۲ء کو اس محاذ سے واپسی کے بعد دوبارہ ساؤتھ افریقہ کے لئے روانہ کیا لیکن جس جہاز میں آپ سفر کر رہے تھے کیونکہ وہ جنگ کا زمانہ تھا اس لئے اسے تارپیڈو کا نشانہ بنایا گیا اور جہاز کے مسافروں سمیت آپ بھی غرق ہوئے۔تو اس جہاز میں