شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 297

شہدائے احمدیت — Page 89

خطبات طاہر بابت شہداء 84 خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۹۹ء ایک شخص ایسا تھا جس نے خدا کی راہ میں، خدا کے رستہ میں جان دی اس لئے اس کا نام ہمیشہ کے لئے شہیدوں میں لکھا جائے گا۔اس پہلو سے ان کو غرقابی کی شہادت بھی نصیب ہوئی اور خدمت دین کے سفر کے دوران وصال پانے کے نتیجے میں دوہری شہادت عطا ہوئی۔اللہ تعالی انکی اولاد کو بہت بابرکت کرے، ہر لحاظ سے ان کی ترقی کے سامان کرے، دینی ترقی کے بھی اور دنیاوی ترقی کے بھی۔ان کی اولاد کے متعلق اب تک جو مجھے معلوم ہوا ہے وہ صرف اتنا ہے کہ اپنے پیچھے ایک بیٹے جمال دین نامی چھوڑے تھے جو کسی وقت کراچی میں رہتے تھے۔اب اگر اللہ کرے زندہ موجود ہوں تو وہ رابطہ کر سکتے ہیں، بتا سکتے ہیں کہ آگے ان کی اولا د کب ہوئی اور کتنی ہوئی اور کہاں کہاں پھیلی۔بہر حال ہماری تاریخ میں تو اتنا ذکر ہے کہ ان کے بیٹے جمال دین صاحب کسی وقت کراچی میں رہتے تھے اور اس وقت کیا حال ہے اس کا ہمیں کوئی علم نہیں۔مگر اس سلسلۂ خطبات کی ایک یہ بھی برکت ہوگی کہ وہ اگر زندہ ہوں، خدا کرے زندہ ہوں تو سن رہے ہوں گے اور ہمیں اپنے حالات مزید بھجوائیں گے اور اگر وہ زندہ نہ ہوں خدانخواستہ تو آگے ان کی اولا دہم سے رابطہ کرے اور بتائے کہ ان کے بزرگ والدین کی شہادتوں کے نتیجہ میں ان کو کیا کیا دنیاوی اور دینی برکات وصول ہوئیں۔اس ذکر کے بعد میں اس خطبہ کو ختم کرتا ہوں اور انشاء اللہ جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے لجنہ کا اجتماع شروع ہو رہا ہے، دعاؤں میں بہت بہت یادرکھیں اور چونکہ بعض احمدی خواتین کے جذبہ شہادت کا ذکر ہے اس لئے خصوصیت کے ساتھ توقع رکھتا ہوں کہ ہماری بجنات اماءاللہ ان کی نیک قربانیوں کی روح کو اپنے سینوں میں ہمیشہ یادرکھیں گی اور نسلاً بعد نسل یہ روح آگے منتقل ہوتی رہے گی۔اللہ تعالیٰ ہماری ان دعاؤں اور التجاؤں کو قبول فرمائے۔