شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 87 of 297

شہدائے احمدیت — Page 87

خطبات طاہر بابت شہداء 82 لانچر پھٹنے کے نتیجے میں ہوئی اور موقع پر ہی دم تو ڑ دیا۔میں ہوا مکرم عبد الرحمن صاحب خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۹۹ء گیارہ نمبر پر مقبوضہ کشمیر کے ایک اور نوجوان عبدالرحمن صاحب کا ذکر کرتا ہوں۔ان کی شہادت نہر میں ڈوبنے کے نتیجہ میں ہوئی۔اس محاذ سے یہ واپس آرہے تھے کہ رستے میں ایک نہر میں نہاتے ہوئے ڈوب گئے۔کیونکہ ڈوب کر فوت ہونے والوں کا بھی آنحضرت مہ نے شہیدوں میں ذکر فرمایا ہے اس لئے قطعاً مبالغہ نہیں کہ ہم ان کو شہید قرار دے سکتے ہیں۔نیز چونکہ ان کا سفر محض اللہ تھا۔آنحضور ﷺ نے مسلمان ڈوب کر فوت ہونے والوں کو شہید قرار دیا خواہ وہ اللہ سفر اختیار کئے ہوئے ہوں یا بغیر سفر کے ہی کسی نہر وغیرہ میں غرق ہو چکے ہوں ان سب کو رسول اللہ ﷺ نے شہید قرار دیا ہے۔اللہی سفر اس شہادت کی عظمت کو بڑھانے والا ایک زائد پہلو ہے۔پس اس پہلو سے ان کو جب غرقابی نصیب ہوئی تو یہ غرقابی محض خدا کی خاطر ایک سفر کے دوران نصیب ہوئی۔یہ اگر چہ شادی شدہ تھے مگر براہ راست انہوں نے کوئی اولاد پیچھے نہیں چھوڑی۔ہاں ان کی بیوی کی دوسری شادی کے نتیجے میں ان میں ایک عزیز محمد اشرف ضیاء مربی سلسلہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان شہادتوں کو اس طرح نوازا کہ آگے بھی خدمات کے سلسلے ان کی نسل سے جاری فرما دیئے۔اس فہرست کو یہاں ختم کرتا ہوں۔اس وقت تک جو معلومات قطعی طور پر مل چکی ہیں ان کو شامل کر لیا گیا ہے اور بعد میں مزید آتی رہیں گی۔اب میں ایسے شہداء کی فہرست پیش کرتا ہوں آخر پر جو واقفین زندگی تھے اور خدمت دین کے دوران میدان جہاد میں ان کی طبعی موت سے وفات ہوئی۔چونکہ واقف زندگی تھے اس لئے اس دوران جو طبعی موت سے وفات ہے وہ بھی شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔مولوی عبید اللہ صاحب ابن حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی ان میں سر فہرست مولوی عبید اللہ صاحب ابن حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی بھی ہیں۔ان کا وصال ۷ دسمبر ۱۹۲۳ء کو ماریشس میں ہوا تھا اور چونکہ خدمت دین پر مامور تھے اور اس دوران وفات ہوئی اس لئے حضرت مصلح موعودؓ نے ان کو شہداء میں شامل کیا یعنی شہداء میں تو اللہ تعالیٰ نے شامل کیا تھا شہداء کی فہرست میں حضرت مصلح موعودؓ نے ان کا ذکر بھی فرمایا۔آپ کے الفاظ ان