شہدائے احمدیت — Page 86
خطبات طاہر بابت شہداء 81 خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۹۹ء میں براہ راست ایک بم پھٹنے سے ہوئی یعنی ایسے بم پھٹنے سے جن کا براہ راست ان کے جسم پر اثر ہوا اور ان کے پر خچے اڑ گئے۔شہادت کے وقت چونکہ آپ غیر شادی شدہ تھے اس لئے کوئی اولاد پیچھے نہیں چھوڑی۔مکرم سخنی منگ صاحب ساتویں نمبر پر مکرم منی منگ صاحب کا ذکر کرتا ہوں۔انہوں نے خود۱۹۳۳ء میں چھوٹی عمر میں ہی احمدیت قبول کی تھی۔۱۶، ۱۷ار جنوری ۱۹۴۹ء کو محاذ پر مجاہدین کا ٹرک کھڑ میں گرنے کی وجہ سے شہید ہوئے۔مکرم میاں غلام یسین صاحب آٹھویں نمبر پر مکرم میاں غلام بین صاحب کا ذکر کرتا ہوں۔یہ یکم فروری ۱۹۴۹ء کو دوران خدمت نمونیہ سے وفات پاگئے تھے۔وہاں شدید سردی سے بچاؤ کا چونکہ کوئی خاص انتظام نہیں ہوتا تھا اس لئے بہت سے غرباء جو پوری طرح تن کو ڈھانپ نہیں سکتے وہ اسی دوران سردی کا شکار ہو گئے لیکن در حقیقت چونکہ شہادت کے شوق میں گئے تھے اور اسی ذمہ داری کو ادا کرتے کرتے فوت ہوئے اس لئے ان کو بھی شہید کا مقام حاصل ہوا۔مکرم محمد خان صاحب نویں نمبر پر مکرم محمد خان صاحب کا ذکر کرتا ہوں یہ بھی صحابی ابن صحابی کی اولاد تھے۔ان کو فرقان بٹالین کے محاذ پر ۱۸ / مارچ ۱۹۴۹ء کو دشمن کی شدید بمباری کے نتیجے میں منہدم ہونے والی عمارت کے اندر شہادت کی توفیق ملی۔ان کے ایک صاحبزادے عزیزم مبارک احمد نجیب اللہ کے فضل سے سلسلہ کے ایک مخلص مربی ہیں اور نظارت اشاعت میں اعلیٰ درجہ کی علمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔مکرم بشیر احمد صاحب ریاض دسویں نمبر پر مکرم بشیر احمد صاحب ریاض کا ذکر کرتا ہوں۔مقبوضہ کشمیر کے رہنے والے تھے اور اپنے والد کے اکلوتے بیٹے تھے۔شہادت کے وقت ان کی چار بہنیں تھیں۔کیونکہ غیر شادی شدہ تھے اس لئے ظاہر ہے کوئی اولاد پیچھے نہیں چھوڑی۔ان کی شہادت ۹ را کتوبر ۱۹۴۹ء کو ایک راکٹ