شہدائے احمدیت — Page 70
خطبات طاہر بابت شہداء 65 خطبہ جمعہ ۴ ارمئی ۱۹۹۹ء ریتی چھلہ سے ملتا ہے عین دن دہاڑے برسر بازار سات احمدیوں کو گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ان میں میاں سلطان عالم صاحب بی۔اے۔نائب ناظر ضیافت بھی تھے اور جب بعض لوگ شہید ہونے والے احمدیوں کی لاشوں کو اٹھانے کے لئے آگے بڑھے تو ان کو بھی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔اب اس شہید کے مزید تعارف کے طور پر بیان کر رہا ہوں کہ یہ شہید مکرم پیر عالم صاحب واقف زندگی کے حقیقی بھائی تھے۔پیر عالم صاحب میرے دفتر میں ، پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر میں، ہمہ وقت خدمت کے ئے تیار رہتے ہیں۔رات بارہ بجے یا ایک بجے تک ہماری بعض علمی مجالس رہی ہیں بعض دفعہ دو بجے تک، سب لوگ چھٹی کر جاتے تھے مگر پیر صاحب نے کبھی چھٹی نہیں کی۔صبح ہمارے مختلف کارکنوں کے آنے سے پہلے میں اپنے دفتر پہنچ جاتا ہوں اور کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ میں پہنچا ہوں اور پیر صاحب موجود نہ ہوں۔اللہ کے فضل سے ان کا بھائی تو شہادت کا رتبہ پا گیا لیکن پر صاحب نے بھی جیتے جی وقف کا حق ادا کر کے اللہ کے حضور یقیناً بہت رہتے پائے ہیں۔نور ہسپتال کے قریب جس گڑھے میں آپ کو دفن کیا گیا وہاں اب کتبہ بھی نصب کر دیا گیا ہے۔نور ہسپتال کے قریب یہ جو شہید ہوئے تھے ان کو بعد میں موقع پا کر جتنے بھی شہید تھے اکٹھا کر کے ایک گڑھا بنا کر اس میں دفن کیا گیا تھا۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں کتبہ نصب کر دیا گیا ہے۔میں اس لئے بتا رہا ہوں کہ قادیان جانے والے جائیں تو وہاں بھی دعا کے لئے جایا کریں۔شہید نے بوڑھے والدین ، نوجوان بیوہ بنت ڈاکٹر عمر دین صاحب افریقی ساکن گجرات اور دو بیٹے خلیل احمد اور نعیم احمد بطور پسماندگان چھوڑے ہیں۔مکرم مرزا احمد شفیع صاحب اب ایک اور شہادت کا ذکر کرتا ہوں جو مکرم مرزا احمد شفیع صاحب ( شہادت ۱۴ را کتوبر ۱۹۴۷ء) کی ہے۔جن کا بیٹا یہاں جرمنی میں ہے مرزا صیح احمد صاحب۔ان کو آپ اکثر لوگ جانتے ہوں گے۔مرزا احمد شفیع صاحب ، مرزا محمد شفیع صاحب کے صاحبزادے تھے۔۱۹۱۳ء میں پیدا ہوئے۔آپ نے اعلیٰ نمبروں سے میٹرک پاس کیا۔ایف اے اور بی اے میں ڈبل میتھ لے کر اعلیٰ نمبروں میں ڈگری حاصل کی۔شہادت کے وقت آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں بطور استاد کے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔سلسلہ کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔نماز با جماعت اور خدام