شہدائے احمدیت — Page 69
خطبات طاہر بابت شہداء 64 خطبہ جمعہ ۴ ارمئی ۱۹۹۹ء کی شادی سید صادق علی صاحب سے ہوئی تھی۔قادیان پیدل آنے کے متعلق لکھتی ہیں کہ جب انہوں نے بہار میں احمدیت کا پیغام سنا تو بہار سے پیدل چل کر قادیان آئے اور ان کے پاؤں سوج گئے تھے۔غریب خاندان تھا ، سفر خرچ نہیں تھا۔یہ مختصری بات انہوں نے لکھی ہے۔جور جسر کا حوالہ میں نے دیا ہے جس کی تفصیل انشاء اللہ جلسہ سالانہ پر میں سناؤں گا۔وہ بہت ہی عظیم الشان واقعہ ہے حیرت انگیز قربانی ہے۔بہار سے چل کر پیدل ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ ننگے پاؤں ، زخمی پاؤں جو ہر روز سوج جایا کرتے تھے زخموں سے، اس کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پیغام سنا تھا صرف آنکھوں دیکھنا تھا اس حالت میں بیہ قادیان آئے تھے۔پس ان کی شہادت ایک عظیم واقعہ ہے جس کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔جیسے بہا در پہلے تھے ویسے ہی شہادت کے دوران بھی بہادر ہی ثابت ہوئے۔مکرم پیر سلطان عالم صاحب ایک شہادت مکرم سلطان عالم صاحب کی تاریخ میں درج ہے۔عزیز سلطان عالم صاحب ۲۶ نومبر ۱۹۲۲ء کو پیدا ہوئے۔۱۹۳۸ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے درجہ اول میں میٹرک پاس کیا۔اس عرصہ میں تحریک جدید بورڈنگ ہاؤس میں داخل رہے۔اس چھوٹی سی عمر میں ہی با قاعدہ تہجد گزار تھے۔بعد ازاں گجرات سے امتیاز کے ساتھ ایف اے پاس کیا اور سی ایم اے کے مقابلہ کے امتحان میں کامیاب ہو کر ملازم ہو گئے۔۱۹۴۲ء میں آپ کو مہمان خانے میں معاون ناظر ضیافت کے طور پر تعینات کیا گیا۔یہ چونکہ وقف کر کے آگئے تھے اور قادیان میں معاون ناظر ضیافت کے طور پر ان کی تقرری ہوئی تھی جو انہوں نے بڑی جانفشانی سے ادا کی۔۱۹ ستمبر ۱۹۴۷ء کی ایک چٹھی میں جو ۲۵ ستمبر کوگولیکی پہنچی ، مرحوم نے یہ لکھا: حضور کا حکم ہے کہ عورتوں اور بچوں کو بھیج دو اور خوب ڈٹ کر مقابلہ کرو۔ہم تو حضور کے حکم کے مطابق خون کا آخری قطرہ بہانے کے لئے یہاں بیٹھے ہیں۔واقعہ شہادت ۴۰ /اکتوبر ۱۹۴۷ء کو کرفیو اٹھنے کے بعد جب بعض بیرونی محلوں میں رہنے والے احمدی اپنے مکانوں کی دیکھ بھال کے لئے باہر جانے لگے تو بڑے بازار کے اختتام پر جو