شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 297

شہدائے احمدیت — Page 71

خطبات طاہر بابت شہداء 99 66 خطبہ جمعہ ۴ ارمئی ۱۹۹۹ء الاحمدیہ کے کاموں میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔ہر قسم کے چندوں اور خصوصاً تحریک جدید میں ہر سال اضافے کے ساتھ حصہ لیا کرتے تھے۔اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اپنے فرائض کو نہایت احسن طور پر نبھاتے رہے۔اب میں ان کے خاندان کا تعارف کرواتا ہوں۔ان کے والد حضرت مرز امحمد شفیع صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ محاسب صدر انجمن احمد یہ تھے۔میرے بچپن سے پارٹیشن تک مجھے ان کا ہمیشہ دیکھنا یاد ہے۔بہت ہی مستعد کا رکن تھے اور ہمیشہ اعلیٰ درجہ کی صلاحیتوں کا نمونہ دکھاتے ہوئے محاسبہ کا کام کیا ہے۔ان کا مزید تعارف یہ ہے کہ حضرت میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خسر تھے۔یعنی حضرت مرزا محمد شفیع صاحب، حضرت میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خسر تھے اور انہی کی بیٹی سے آگے حضرت میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ساری نسل جاری ہوئی ہے۔جو دوسری بیگم تھیں ان کو اچھی اماں کہا کرتے تھے ان سے کوئی اولا د نہیں تھی لیکن وہ ان کی اولا د سے بھی ماں کی طرح محبت کرتی تھیں بلکہ بعض ان کے بچے انہی کے پاس پلے ہیں۔حضرت چھوٹی آپا یعنی ام متین کے یہ حقیقی ماموں تھے، مرزا احمد شفیع صاحب۔مرزا احمد شفیع صاحب کی بیوہ امتہ الرحمن صاحبہ ربوہ میں ہوتی ہیں جن کے ساتھ ان کی بیٹی امتہ الباسط (امتہ القیوم ساتھ رہتی ہیں۔حضور نے ۲۸ رمئی کے خطبہ میں تصحیح فرما دی تھی رہتی ہیں۔ان کی ایک بیٹی لندن میں ہیں جن کے بچے آگے پھر خدمت دین کی توفیق پارہے ہیں۔فضل اور شیلا دو نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں جنہوں نے جماعت کی علمی خدمات میں بہت بھر پور حصہ لیا ہے اور جو بھی ریسرچ کے کام میں ان کے سپر د کرتا ہوں بڑی تند ہی سے ادا کرتے ہیں۔انگلستان کی جماعت میں یہ دو نام کافی مشہور ہیں۔ان کے بیٹے مرزا مسیح احمد جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہاں جرمنی میں ہیں اور کافی لمبے عرصہ سے صاحب فراش ہیں اور بڑی ہمت سے بیماری کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ان کی بیگم بھی ان کی بہت خدمت کر رہی ہیں۔آپ سب کو میں ان سب کے لئے دعا کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔فیض محمد صاحب، انکی اہلیہ و نچی اور عبدالجبار صاحب اب کئی شہادتوں کا ذکر جو فیض محمد صاحب، زہرہ بی بی صاحبہ، عبدالجبار صاحب اور فیض محمد صاحب کی چار سالہ بچی کی شہادتیں ہیں۔اب ان کا ذکر میں کرتا ہوں۔مکرم ٹھیکیدار عبدالرزاق بیان