شہدائے احمدیت — Page 61
خطبات طاہر بابت شہداء 56 خطبہ جمعہ سے رمئی ۱۹۹۹ء دیتا ہوا آپ کو مارتے ہوئے یہ کہتے ہوئے آگے بڑھا یہ مرزائی ہے اسے جان سے ماردو۔ایک شخص جو آپ کو ذاتی طور پر جانتا تھا وہ آپ کے پاس آیا کہنے لگا جمال تم کہہ دو کہ تم احمدی نہیں ہو تو میں تمہیں بچا لوں گا۔اگر تم ویسے نہیں کہنا چاہتے تو میرے کان میں ہی کہ دو تو پھر بھی میں اس ہجوم کو سنبھال لوں گا۔کیونکہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا۔آپ کہنے لگے کہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہوں اور اپنی جان بچانے کے لئے جھوٹ نہیں بولوں گا، تم نے جو کچھ کرنا ہے کر لو۔چنانچہ آپ کو نیچے گرا کر چاقوؤں سے شہید کر دیا گیا۔اناللہ وانا الیه راجعون۔شہادت کے وقت آپ کی عمر صرف ۷ اسال تھی۔جمال احمد شہید کے بھائی نصیر الدین بلال اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ شہید مرحوم کے قاتل حکومت نے پکڑ کر چھوڑ دیئے۔لیکن خدا تعالیٰ نے ان کو ہمارے سامنے سزا دی۔ایک پاگل ہو کر نہایت بری حالت میں مرا یعنی گندی نالیوں کا گند پیتے ہوئے پھرتا رہا اسی حالت میں مرا اور دوسرا اندھا ہو کر مرا۔مرزا کریم بیگ صاحب اب ایک اور احمدی مرزا کریم بیگ صاحب کو فلیمنگ روڈ پر چھرا مار دیا گیا اور ان کی نعش ایک چتا میں پھینک دی گئی جوفر نیچر کو آگ لگا کر تیار کی گئی تھی۔کثرت کے ساتھ اسی روز احمدیوں کی دکانیں لوٹ لی گئیں۔ان کے سامان کو اکٹھا کر کے ان کی دکانوں میں ڈال کر یا باہر آگ لگا دی گئی۔تیسرے پہر ایک ممتاز ایڈووکیٹ شیخ بشیر احمد صاحب لاہور کے مکان کو بھی ہجوم نے گھیر لیا۔اس واقعہ میں شہادت تو کوئی نہیں ہوئی مگر چونکہ شیخ بشیر احمد صاحب نے دفاع میں گولی چلائی تھی اس لئے ان کو پکڑ لیا گیا بعد میں عدالت نے ان کو بری کر دیا۔مارچ کی رات کو عبدالحکیم مالک پائنیر الیکٹرک اینڈ بیٹری سٹیشن کے مکان پر چھاپہ مارا گیا اور ان کی بوڑھی والدہ قتل کر دی گئیں حالانکہ وہ احمدی نہیں تھی۔یہ واقعہ اس غلط فہمی سے ہوا کہ چونکہ عبدالحکیم صاحب جماعت احمد یہ گنج مغلپورہ کے صدر تھے اور ایک معروف ہستی تھے اس لئے دشمنوں نے سمجھا کہ ماں بھی احمدی ہوگی حالانکہ وہ احمدی نہیں تھی۔تو یہ نہیں وہاں قتل ہوئے مگر ان کی بوڑھی والد قتل کر دی گئیں۔مکرم عبد الغفور صاحب حوالدار اور ایک احمدی عطار، لاہور ۸ مارچ ۱۹۵۳ء کو لاہور میں دو اور بھی شہادتیں ہوئیں جن میں سے ایک مکرم حوالدار عبد