شہدائے احمدیت — Page 60
خطبات طاہر بابت شہداء 55 خطبہ جمعہ کے رمئی ۱۹۹۹ء چکے تھے کہ تحقیقاتی عدالت کے جج جسٹس منیر نے لکھا: اس دن کے واقعات کو دیکھ کر ”سینٹ بارتھولومیو ڈے یاد آ جاتا تھا۔ماسٹر منظور احمد صاحب لاہور اس مارشل لاء سے قبل جو شہادتیں ہیں ان میں ماسٹر منظور احمد صاحب مدرس بھی شامل تھے۔ان سب شہداء کے متعلق میں نے لکھ دیا ہے کہ ان کی تفاصیل معلوم کریں کہاں تھے ، کس کے بیٹے تھے ، ان کی اولاد کہاں کہاں گئی۔شہادتوں کے ذکر میں توجہ صرف اسی طرف بٹی رہی کہ کون شہید ہوا حالانکہ ضروری تھا ہماری تاریخ کو مکمل کرنے کی خاطر کہ ان کی اولاد، ان کے پسماندگان وغیرہ کہاں گئے اور کہاں آباد ہوئے اور خدا تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا تو اب انشاء اللہ یہ بھی اس شہادت کے تذکرہ کا ایک پھل، بہت ہی نیک پھل ہے جو ہمیں زائد حاصل ہورہا ہے۔وہ لوگ جن کی اولادوں کو بھلا دیا گیا تھا اب وہ اولاد ہیں بھلائی نہیں جاسکیں گی۔اس خطبہ کے تسلسل میں ان کا ذکر خیر بھی چلے گا۔محمد شفیع صاحب اور میاں جمال احمد صاحب لاہور ماسٹر منظور احمد صاحب مدرس تھے۔یہ نہیں لکھا کہ کون تھے، کس کے بیٹے تھے، کہاں تھے۔صرف اتنا ذکر ہے کہ مدرس تھے۔ان کے علاوہ ۶ / مارچ کو ایک احمدی محمد شفیع صاحب بر ما والا کو مغلپورہ میں شہید کیا گیا اور کالج کے ایک احمدی طالب علم میاں جمال احمد صاحب کو بھی اسی روز شہید کیا گیا۔میاں جمال احمد صاحب شہید کی شہادت کا واقعہ بہت ہی دردناک بھی ہے اور ان کی بہادری پر بھی دلالت کرتا ہے۔بہت نڈر انسان تھے۔محترم جمال احمد صاحب ولد مستری نذرمحمد صاحب حلقہ بھائی گیٹ لاہور کو 4 مارچ ۱۹۵۳ کو شہید کیا گیا۔شہادت کے وقت آپ تعلیم الاسلام کالج لاہور میں ایف۔ایس سی کے طالب علم تھے۔جب بھی حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ تشریف لے جاتے تو شہید مرحوم ساری ساری رات ڈیوٹی دیتے۔۵/ مارچ ۱۹۵۳ء کو آپ ساری رات گھر کی چھت پر پہرہ دیتے رہے۔مارچ کو جمعہ کے روز آپ اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کو ملنے سائیکل پر رنگ محل جارہے تھے۔گھر سے کچھ فاصلہ پر محلہ دار جو آپ کو جانتے تھے جلوس کی شکل میں کھڑے تھے۔آپ پاس سے گزرے تو انہوں نے پتھر برسانے شروع کر دیئے۔آپ سائیکل سے اتر کر کھڑے ہو گئے۔ہجوم گالیاں