شہدائے احمدیت — Page 62
خطبات طاہر بابت شہداء 57 خطبہ جمعہ کے رمئی ۱۹۹۹ء الغفور صاحب ولد الہی بخش صاحب تھے اور دوسرے لاہور کے علاقہ میں ایک احمدی عطار تھے جن کا نام کسی وجہ سے تاریخ میں درج نہیں۔اب یہ بھی اسی قسم کا واقعہ ہے کہ جہاں تاریخ میں محفوظ رکھنے والی ضروری چیزیں نظر انداز کر دی گئیں ہیں۔اب یہ ہوہی نہیں سکتا کہ احمدی عطار شہید ہوا ہو اور اس کا کوئی باپ، کوئی ماں، رشتہ دار، کوئی اور پسماندہ ایسے نہ ہوں جن کو پتہ نہ ہو کہ ان کا نام کیا تھا، کہاں کے تھے اور اب ان کی اولاد بھی کہیں پھیلی ہوئی ہوگی۔تو یہ وہ اہم تاریخی واقعات ہیں جو نظر سے دور رہ گئے ہیں اور شہادت کے ذکر میں صرف اتنا ہی سمجھا گیا کہ ایک شہید ہوا، ایک شہید ہوا، ایک شہید ہوا۔حالانکہ اس کے ماحول کی باتیں، اس کے رشتہ داروں کی باتیں، اس کے بزرگوں کی باتیں ، یہ ساری تاریخ کا حصہ ہونی چاہئے تھیں۔پس اتنا ہی لکھا ہوا ہے کہ ایک احمدی عطار تھا جس کا نام معلوم نہیں ہو سکا۔اب جب تاریخ لکھنے والے نے لکھا ہے اس وقت اس کا نام معلوم نہیں ہوا ہوگا۔ہوسکتا ہے ہنگامے کے حالات میں یہ بات لکھی گئی ہو بعد میں آسانی سے یہ نام معلوم کیا جا سکتا تھا۔مرکز سلسلہ قادیان کی حفاظت کے سلسلہ میں شہادتیں اب اس کے بعد جو ذکر چلے گا وہ مرکز حفاظت کے سلسلے میں قادیان اور اس کے نواح میں شہادت کے واقعات کا ذکر ہو چکا ہوگا یہ چونکہ اپنی ذات میں ایک لمبا مسودہ ہے اور اس ذکر میں کئی باتیں بیان ہونے کے قابل ہیں اس وقت میں صرف اتنی بات بیان کرتا چاہتا ہوں کہ قادیان سے ہجرت سے پہلے جو واقعات وہاں گزرے ہیں ان میں لفظ شہادت کا استعمال جائز ہے۔اگر چہ ایک تقسیم کا ایک سیاسی جھگڑا تھا اور اس کے نتیجے میں حملے ہورہے تھے مگر امر واقعہ یہ ہے کہ جتنے بھی مسلمان جو لاکھوں کی تعداد میں شہید کئے گئے ہیں محض اس جرم میں شہید ہوئے ہیں کہ وہ مسلمان تھے پس احمدی تھے یا غیر احمدی تھے اس میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ ان سے دشمنی کی وجہ ان کا مسلمان ہونا تھا۔پس اگر کسی کو مسلمان سمجھتے ہوئے خواہ وہ حقیقی مسلمان ہو یا سطحی مسلمان ہو قتل کیا گیا ہو تو لازماً خدا کے حضور اس کا درجہ شہادت کا ہی ہوگا۔لیکن جن احمدی شہداء کا ذکر میں کروں گا اس ضمن میں ان کے متعلق ایک بات میں کھول کر دینا چاہتا ہوں کہ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کا شہادت کا مرتبہ ان عام مسلمانوں سے زیادہ بڑا تھا۔جیسا کہ تفصیلی ذکر آئے گا آپ یہ سن کر حیران ہونگے کہ بہت سے احمدی نو جوانوں نے اپنے بھائی مسلمانوں کی حفاظت میں جانیں دی ہیں اور قادیان میں بڑی بڑی دور دور سے لوگ جا کر اس خیال سے آباد ہوئے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کی حفاظت میں اور مرکز کی حفاظت