شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 51 of 297

شہدائے احمدیت — Page 51

خطبات طاہر بابت شہداء 45 خطبه جمعه ۳۰ را پریل ۱۹۹۹ء اب یہ وہ آخری بات ہے جس سلسلہ میں میں جماعت کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ جتنے بھی احمدیوں کو شہید کرنے والے ظالم لوگ ہیں ان کی خبر تو لے کر دیکھیں کہ حکومت کی پکڑ سے تو وہ بچ گئے ان پر خدا کی کیسی پکڑ آئی۔میں جب وقف جدید میں تھا مجھے یہ شوق تھا، میں جستجو کیا کرتا تھا تو ایک خاندان کے متعلق جس نے بہت ظالمانہ طریق پر ایک احمدی کو مارا تھا اس کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ سارا خاندان ایک حادثہ میں بس میں جل گیا اور تمام کے تمام جل کر مر گئے۔پس اس پہلو سے بھی مجھے شوق تھا کچھ مواد میں نے اکٹھا کر وایا تھا وہ اللہ بہتر جانتا ہے کہاں گیا۔لیکن احمدی محققین کو یا جن جن علاقوں میں یہ لوگ بستے ہیں جو قتل کرنے کے بعد دندناتے پھرتے تھے ان کے علاقے کے احمدیوں کو چاہئے کہ ان کے حالات جمع کریں اور دیکھیں کہ خدا کی تقدیر نے ان کو کیسے آ پکڑا۔اب ان کے بیان کے متعلق میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔پیشخص جودند نا تا پھرتا تھا یہ پاگل ہو گیا اور دیوانگی کی حالت میں گلیوں میں نیم برہنہ پھرتارہا اور کچھ عرصہ نظر آنے کے بعد کہیں ہمیشہ کے لئے گم ہو گیا۔وہ ملاں جو مریض دکھانے کے بہانے ڈاکٹر کو بلانے آیا تھا وہ بھی اپنے بھائی کے ہاتھوں بیوی بچوں سمیت قتل ہو گیا۔تو اللہ کی پکڑ ڈھیل تو دکھاتی ہے مگر بہت سخت ہوا کرتی ہے۔مگر ہمارے ارباب حل و عقد کو تو خدا کی کوئی پرواہ نہیں۔یہ تو تاریخ ان کو بتائے گی کہ یہ کہاں جا رہے ہیں اور کس گڑھے میں کو درہے ہیں اور سارے ملک کو اپنے ساتھ جہنم میں داخل کر رہے ہیں۔آج کل جو وہاں حال گزر رہا ہے گلی گلی ظلم کا شکار بن چکی ہے، اتنے بھیانک مظالم ہور ہے ہیں کہ انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔مزقهم کل ممزق و سحقهم تسحیقا کی تقدیر ہے جو پاکستان میں چلتی دکھائی دے رہی ہے۔مزقھم کی چکی کے نیچے یہ سارے پیسے جارہے ہیں اور کسی کو پتہ نہیں کہ ابھی مرنے کے بعد ایک اور چکی میں بھی پیسے جائیں گے جس کا پیسا جانا ہمیشہ کے لئے یا اتنے لمبے عرصہ کے لئے ہے جسے ہمیشگی کہا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو ہدایت عطا فرمائے۔آمین۔