شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 50 of 297

شہدائے احمدیت — Page 50

خطبات طاہر بابت شہداء 44 خطبه جمعه ۳۰ را بریل ۱۹۹۹ء تھے۔یہ خان میر خان حضرت مصلح موعودؓ کے ایک جانثار محافظ تھے اور ایسا کام کرتے تھے صرف حفاظت کا ہی نہیں بلکہ سامان وغیرہ بھی خود اٹھا اٹھا کر گاڑیوں میں رکھنا اور بچوں کی حفاظت کرنا ، ان کی بھی دلداری کرنی۔غرضیکہ حضرت مصلح موعودؓ کے پہرہ داروں میں سے خان میرا ایک بے مثل پہرہ دار تھے۔مریم سلطانہ جوڈا کٹر محمد احمد خان صاحب، آپ کے بیٹے کی بیگم اور آپ کی بہو تھیں وہ بیان کرتی ہیں کہ میں اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ ضلع کو ہاٹ کے علاقہ ٹل میں مقیم تھی۔اس علاقے میں کوئی احمدی گھرانہ نہ تھا۔۱۹۵۶ء میں وہاں مخالفت کی آگ بہت بھڑ کی۔۲۹ جون ۱۹۵۶ء کو مخالفین میرے خاوند کو دھوکہ دے کر ایک مریض کے علاج کے لئے پانچ چھ میل دور علاقہ غیر میں لے گئے۔یہ سراسر جھوٹ بول کر لے جانے والا گاؤں کا ایک ملاں تھا۔اس نے انسانی ہمدردی کے نام پر ان سے اپیل کی کہ سات میل دور تمہیں جانا پڑے گا مگر ایک مریض ہے اور اس کی خاطر اگر تمہارے دل میں سچی ہمدردی ہے انسانیت کی تو وہاں پہنچو اور اس کا علاج کرو لیکن جو نہی یہ بد بخت گاؤں پہنچا اس نے نہایت غضب ناک آواز میں اعلان کیا کہ یہ قادیانی ڈاکٹر ہے میں اسے نہیں چھوڑوں گا جب تک کہ اسے گولی نہ ماردوں اور وہیں گولی مار کر شہید کر دیا۔مریم سلطانہ کو شہادت کی خبر ملی تو ارد گرد کوئی بھی ان کا ہمدرد نہ تھا۔سب مخالف تھے۔لیکن بڑی بہادر خاتون تھیں۔یہ ہمت کر کے، بچوں کو خدا کے سپر د کر کے اپنے میاں کی نعش لینے کے لئے نکل کھڑی ہوئیں۔جس قسم کے حالات تھے نعش کا ملناممکن نہیں نظر آتا تھا لیکن آپ لاش کی تلاش میں سرگرداں پھرتی رہیں۔کہتی ہیں کہ میں لاش تلاش کرتی پھرتی تھی اور شہر کے لوگ میرے شوہر کے قتل پر خوشیاں منا رہے تھے۔میں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا پھر کوئی میرے غم میں شریک نہ تھا۔آخر انہوں نے یعنی مریم نے آخر لاش حاصل کر ہی لی اور ٹرک کا انتظام بھی خود ہی کیا۔بڑی بہادر خاتون تھیں، خودا کیلئے ہی سارے کام کئے۔ٹرک کا انتظام کر کے اس میں لاش رکھ کر چاروں بچوں کو ہمراہ لے کر ربوہ روانہ ہوگئیں۔کہتی ہیں میں آہوں اور سسکیوں میں زیر لب دعائیں کرتی رہی اور اور ان کے شوہر کی دکان بھی لوٹ لی گئی۔قاتل وہاں دندناتا پھر رہا تھا لیکن کوئی اسے پکڑے والا نہ تھا لیکن خدا کی پکڑ سخت ہوتی ہے۔