شہدائے احمدیت — Page 21
خطبات طاہر بابت شہداء 21 خطبه جمعه ۲۳ راپریل ۱۹۹۹ء نہیں اور میرے اہل وعیال کی بربادی ہے مگر میں اس وقت اپنے ایمان کو اپنی جان اور ہر ایک دنیوی راحت پر مقدم سمجھتا ہوں“۔”لوگوں نے شہید مرحوم کی اس استقامت اور استقلال کو نہایت تعجب سے دیکھا اور در حقیقت تعجب کا مقام تھا کہ ایسا جلیل الشان شخص کہ جو کئی لاکھ روپیہ کی ریاست کا بل میں جاگیر رکھتا تھا اور اپنے فضائل علمی اور تقویٰ کی وجہ سے گویا تمام سرزمین کابل کا پیشوا تھا اور قریباً پچاس برس کی عمر تک تنعم اور آرام میں زندگی بسر کی تھی اور بہت سا اہل وعیال اور عزیز فرزند رکھتا تھا پھر یک دفعہ وہ ایسی سنگین قید میں ڈالا گیا جو موت سے بدتر تھی جس کے تصور سے بھی انسان کے بدن پر لرزہ پڑتا ہے۔ایسا نازک اندام اور نعمتوں کا پروردہ انسان وہ اس روح کے گداز کرنے والی قید میں صبر کر سکے اور جان کو ایمان پر فدا کرے بالخصوص جس حالت میں امیر کابل کی طرف سے بار باران کو پیغام پہنچتا تھا کہ اس قادیانی شخص کے تصدیق دعوی سے انکار کر دو تو تم ابھی عزت سے رہا کئے جاؤ گے۔مگر اس قوی الایمان بزرگ نے اس بار بار کے وعدہ کی کچھ بھی پروا نہ کی اور بار بار یہی جواب دیا کہ مجھ سے یہ امید مت رکھو کہ میں ایمان پر دنیا کو مقدم رکھ لوں اور کیوں کر ہوسکتا ہے کہ جس کو میں نے خوب شناخت کر لیا اور ہر ایک طرح سے تسلی کر لی اپنی موت کے خوف سے اس کا انکار کر دوں۔یہ انکار تو مجھ سے نہیں ہوگا۔میں دیکھ رہا ہوں کہ میں نے حق کو پالیا۔اس لئے چند روزہ زندگی کے لئے مجھ سے بے ایمانی نہیں ہوگی کہ میں اس ثابت شدہ حق کو چھوڑ دوں۔میں جان چھوڑنے کے لئے تیار ہوں اور فیصلہ کر چکا ہوں کہ حق میرے ساتھ جائے گا۔اس بزرگ کے بار بار کے یہ جواب ایسے تھے کہ سرزمین کا بل ان کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور کابل کے لوگوں نے اپنی تمام عمر میں یہ نمونہ ایمانداری اور استقامت کا کبھی نہیں دیکھا ہوگا“۔( تذكرة الشهادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۵۰-۵۲)