شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 20 of 297

شہدائے احمدیت — Page 20

خطبات طاہر بابت شہداء 20 20 خطبه جمعه ۲۳ راپریل ۱۹۹۹ء کرنے کے لئے حاکم خوست کے نام آچکا تھا۔غرض جب امیر صاحب کے رو برو پیش کئے گئے تو مخالفوں نے پہلے سے ہی ان کے مزاج کو بہت کچھ متغیر کر رکھا تھا۔اب امیر کی بدتمیزی اور بے شرمی ملاحظہ کریں کہ وہ کہتا ہے مجھے ان سے بُو آتی ہے۔امیر نے حاضرین کے سامنے یہ بیان دیا:۔حکم دیا کہ مجھے ان سے بُو آتی ہے ان کو فاصلہ پر کھڑا کرو۔پھر تھوڑی دیر کے بعد حکم دیا کہ ان کو اس قلعہ میں جس میں خود امیر صاحب رہتے ہیں قید کر دو اور زنجیر غراغراب لگادی۔زنجیر غراغراب کیا چیز ہے۔ید زنجیر وزنی ایک من چو بیس سیر انگریزی کا “۔مراد ہے کہ یہ وزن انگریزی بیان کیا جا رہا ہے۔یہ زنجیر وزنی ایک من چوبیس سیر انگریزی کا ہوتا ہے۔گردن سے کمر تک گھیر لیتا ہے اور اس میں ہتھکڑی بھی شامل ہے اور نیز حکم دیا کہ پاؤں میں بیٹری وزنی آٹھ سیر انگریزی کی لگا دو۔انگریزی بیٹری سے مراد انگریزی بیٹری نہیں بلکہ آٹھ سیر انگریزی۔پھر اس کے بعد مولوی صاحب مرحوم چار مہینہ قید میں رہے۔ان کے دکھوں اور تکلیفوں کا زمانہ کتنا لمبا ہوا ہے۔چار مہینہ قید میں رہے اور اس عرصہ میں کئی دفعہ ان کو امیر کی طرف سے فہمائش ہوئی کہ اگر تم اس خیال سے تو بہ کرو کہ قادیانی در حقیقت مسیح موعود ہے تو تمہیں رہائی دی جائے گی مگر ہر ایک مرتبہ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں صاحب علم ہوں اور حق و باطل کی شناخت کرنے کی خدا نے مجھے قوت عطا کی ہے، میں نے پوری تحقیق سے معلوم کر لیا ہے کہ یہ شخص در حقیقت مسیح موعود ہے۔اگر چہ میں جانتا ہوں کہ میرے اس پہلو کے اختیار کرنے میں میری جان کی خیر