شہدائے احمدیت — Page 22
خطبات طاہر بابت شہداء 22 22 خطبه جمعه ۲۳ را پریل ۱۹۹۹ء کن معنوں میں فراموش نہیں کرے گی اس کی تفصیل بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زبان ہی سے ملتی ہے یا قلم ہی سے ملتی ہے جو میں آپ کے سامنے پیش کروں گا۔مزید واقعات شہادت:۔” جب شہید مرحوم نے ہر ایک مرتبہ تو بہ کرنے کی فہمائش پر تو بہ کرنے سے انکار کیا تو امیر نے ان سے مایوس ہوکر اپنے ہاتھ سے ایک لمبا چوڑا کا غذ لکھا اور اس میں مولویوں کا فتویٰ درج کیا اور اس میں یہ لکھا کہ ایسے کافر کی سنگسار کرنا سزا ہے۔تب وہ فتویٰ اخوند زادہ مرحوم کے گلے میں لٹکا دیا گیا اور پھر امیر نے حکم دیا کہ شہید مرحوم کے ناک میں چھید کر کے اس میں رسی ڈال دی جائے۔چنانچہ اس ظالم امیر کے حکم سے ایسا ہی کیا گیا اور ناک کو چھید کر سخت عذاب کے ساتھ اس میں رسی ڈال دی گئی۔تصور تو کریں کس قدر پے بہ پے عذابوں میں آپ کو مبتلا کیا گیا اور اتنا دردناک عذاب جیسے جانوروں کے ناک کو چھیدا جاتا ہے اور رسی ڈالی جاتی ہے مگر اس میں بھی ان کو کھینچنے سے پہلے انتظار کیا جاتا ہے کہ زخم مندمل ہو جائیں بعد میں ان میں رسی ڈال دی جاتی ہے مگر ابھی زخم کچے تھے اور درد سے بھرے ہوئے تھے کہ آپ کے ناک میں رسی ڈال دی گئی۔' تب اس رسی کے ذریعہ سے شہید مرحوم کو نہایت ٹھٹھے، ہنسی اور گالیوں اور لعنت کے ساتھ مقتل تک لے گئے اور امیر اپنے تمام مصاحبوں کے ساتھ اور مع قاضیوں، مفتیوں اور دیگر اہل کاروں کے دردناک نظارہ دیکھتا ہوا مقتل تک پہنچا اور شہر کی ہزار ہامخلوق جن کا شمار کرنا مشکل ہے اس تماشہ کے دیکھنے کے لئے گئی۔جب مقتل پر پہنچے تو شہزادہ مرحوم کو کمر تک زمین میں گاڑ دیا یہاں مرحوم سے مراد فوت شدہ نہیں بلکہ جس پر رحم کیا گیا۔فوت شدہ کے لئے لفظ مرحوم اسی لئے استعمال کیا جاتا ہے۔تو آپ سے زیادہ رحم کس پر کیا گیا۔اللہ کی طرف سے کہ آپ کو یہ عظمت کا مقام عطا فر مایا گیا۔شہزادہ مرحوم کو کمر تک زمین میں گاڑ دیا اور پھر اس حالت میں جبکہ