شہدائے احمدیت — Page 252
ضمیمہ 236 شہداء بعد از خطبات شہداء مکرم ڈاکٹر شمس الحق طبیب صاحب۔فیصل آباد تاریخ شہادت ۷ ارجنوری ۲۰۰۰ء ) فیصل آباد کے معروف آرتھو پیڈک سرجن مکرم ڈاکٹر شمس الحق طیب صاحب کو ا۴ سال کی عمر میں ۷ ارجنوری ۲۰۰۰ء کی رات لاہور روڈ پر انکی کار میں شہید کیا گیا۔واقعات کے مطابق رات ساڑھے دس بجے ساحل ہسپتال سے ڈیوٹی سے فارغ ہو کر نکلے تو انہیں انکی کار میں ہی اغوا کرلیا گیا۔لاہور روڈ پر کار میں کنپٹی پر فائر کر کے شہید کر دیا گیا۔کار میں آپ کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔اگلے روز مسجد مبارک میں بعد نماز مغرب و عشاء حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب (خلیفہ اسیح الخامس ) ناظر اعلیٰ و امیر مقامی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور قبرستان نمبر 1 میں تدفین کے بعد دعا بھی کروائی۔ڈاکٹر شمس الحق طیب صاحب مکرم ڈاکٹر فضل الحق صاحب دارالرحمت شرقی را جیکی ربوہ سابق صدر جماعت لالیاں کے بیٹے تھے۔ابتدائی تعلیم ربوہ سے مکمل کی۔۱۹۷۶ء میں ایف ایس سی کرنے کے بعد پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد سے ایم بی بی ایس کیا اور بہاولپور سے سپیشلائزیشن کیا۔آپ نے بہت جلد ترقی کر کے ایک ماہر آرتھو پیڈک سرجن کے طور پر اپنا نام پیدا کر لیا تھا۔غریبوں کا علاج مفت کرتے۔فضل عمر ہسپتال ربوہ میں بھی آکر آپریشن کئے۔شہادت سے چند ماہ قبل ایک مریض کا کٹا ہوا ہا تھ جو بالکل علیحدہ ہو گیا تھا نہایت مہارت سے جوڑا جس کی اخبارات میں بھی شہرت ہوئی۔مرحوم ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ مکرمہ ڈاکٹر صبیحہ جاوید صاحبہ بنت مکرم ایس ایم جاوید صاحب آف بہاولپور ہیں۔اہلیہ نے گائنی میں ایم آرسی پی (MRCP) کیا ہوا ہے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین کم سن بچے دو بیٹے معین الحق اور منظور الحق اور ایک بیٹی سدرہ چھوڑے ہیں حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے محترم ڈاکٹر شمس الحق طیب صاحب کی شہادت پر انکے والد مکرم ڈاکٹر فضل حق صاحب کے نام مکتوب محرره ۱۹ار جنوری ۲۰۰۰ء میں تحریر فرمایا کہ: عزیزم شمس صاحب ایک قابل ڈاکٹر تھے اور جماعت کے مخلص