شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 253 of 297

شہدائے احمدیت — Page 253

ضمیمہ 237 شہداء بعد از خطبات شہداء فدائی خادم تھے ہر ایک کی خدمت کرنا ان کا شیوہ تھا۔انکی یہ خوبیاں احمق دشمنوں کیلئے انگارہ بنی رہیں اور اندھی دشمنی میں ایک معصوم کی جان لیتے ہوئے اتنا بھی نہ سوچا کہ وہ تو اور بھی امر ہو گیا۔اس سے انہیں حیات ابدی نصیب ہو گئی ہے۔اللہ یہ اعزاز ان کے لئے اور ان کے سب پیاروں کیلئے بے حد مبارک کرے اور ہمیشہ ان سے مغفرت اور عفو کا سلوک فرمائے۔میں انشاء اللہ ان کی نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔“ محترم ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ کے نام مکتوب محررہ ۱۹ جنوری ۲۰۰۰ ء میں حضور نے تحریر فرمایا: عزیزم ڈاکٹر شمس الحق طیب کی شہادت کی خبر سن کر افسوس تو ہوالیکن جو بلند مرتبہ خدا نے اپنے فضل سے انہیں عطا فرمایا ہے اور جس ابدی زندگی سے انہیں سرفراز فرمایا ہے اس پر بلاشبہ وہ ایک بے حد قابل رشک وجود بن گئے ہیں۔وہ آپ کے ہی پیارے نہیں تھے ، مجھے بھی بہت عزیز تھے۔ابھی پچھلے سال ہی تو وہ مجھ سے یہاں مل کر گئے تھے۔ان کا وہی کھلا مسکرا تا چہرہ میری نظروں کے سامنے ہے۔اللہ انہیں اعلی علیین میں جگہ دے اور اپنے قرب خاص سے نوازے۔“ مکرم مولانا عبدالرحیم صاحب نواحمدی آف انڈیا ( تاریخ شہادت ۱۵ را پریل ۲۰۰۰ء) محترم مولانا عبدالرحیم صاحب نو احمدی فاضل دیو بند کو ۱۵ / اپریل ۲۰۰۰ء لدھیانہ میں مخالفین نے جامع مسجد فیلڈ گنج میں بے دردی اور سفاکی سے تشد دکر کے شہید کر دیا۔اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ لدھیانہ میں مقیم ایک معلم مکرم نصر الحق صاحب کچھ ایام سے لا پتہ تھے۔ان کو ڈھونڈنے کے لئے ایک وفد روانہ ہوا۔معلم صاحب کے ایک دوست سے معلوم کرنے کیلئے ایک وفد احراریوں کی جامع مسجد گیا۔انہیں مولوی کے حکم پر باندھ دیا گیا اور تشدد کیا گیا۔ایک دوسرا وفد پہلے دوستوں کا پتہ کرنے گیا تو انہیں بھی باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر مولانا عبدالرحیم صاحب اور دوسرے ساتھیوں کو پکڑ کر رسیوں سے باندھا گیا اور تشدد شروع کر دیا گیا۔