شہدائے احمدیت — Page 251
ضمیمہ 235 شہداء بعد از خطبات شہداء بیٹی جو تحر یک وقف نو میں شامل ہے ، چھوڑے ہیں۔مرحوم کھلنا جماعت کے سیکرٹری وقف نو کے علاوہ خدام الاحمدیہ کے ریجنل قائد بھی تھے۔ان میں سے بہت ایسے ہیں جن کی بیوائیں بہت چھوٹی عمر کی ہیں اور بنگلہ دیش میں رشتے ناطے کی دقتیں بھی ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت کثرت سے نئے احمدی ہور ہے ہیں۔اس لئے جماعت کو اس طرح بھی توجہ چاہئے۔پسماندگان کا یہ بھی حق ہے کہ نیک دل آدمیوں سے بیواؤں کی شادیاں ہوں جو یتیموں کا خیال رکھیں۔قرآن کریم میں اس کے متعلق بہت تاکید ہے کہ جب سوسائٹی میں یتامی بنیں تو ان کی خاطر ایک سے زیادہ شادیاں بھی کرنی پڑیں تو کرو مگر یتامیٰ کا خاص طور پر انصاف کے ساتھ خیال رکھنا ضروری ہے۔مکرم ڈاکٹر عبدالماجد صاحب مکرم ڈاکٹر عبدالماجد صاحب کی عمر ۴۳ سال تھی۔آپ کھلنا جماعت کے زعیم انصار اللہ ، سیکرٹری تبلیغ اور سیکرٹری وصایا تھے۔خود بھی پر جوش داعی الی اللہ تھے۔آپ بحیثیت ڈاکٹر کھلنا میں ہی پریکٹس کرتے تھے۔پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔مکرم ممتاز الدین احمد صاحب جو ساتویں میں کہہ رہا تھا جن کی اطلاع ملی ہے وہ مکرم ممتاز الدین احمد صاحب ہیں۔آپ کھلنا کی مسجد کے موذن اور خادم تھے۔اسی حادثہ میں شدید زخمی ہوئے ، ہسپتال میں زیر علاج رہے مگر جانبر نہ ہو سکے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور دو بیٹے چھوڑے ہیں۔ان میں سے ایک بچی کے علاوہ باقی سب شادی شدہ ہیں۔افسوس کہ کھلنا کے ان شہداء کی نماز جنازہ غائب میں تاخیر ہو گئی۔مجھے پہلے توجہ کرنی چاہئے تھی مگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوتی ہے کسی حکمت سے یہ تاخیر ہوگئی۔اب جب حضرت چھوٹی آپا کے جنازہ غائب کا خیال آیا تو پہلے ان شہداء کی طرف دماغ گیا کہ پہلے ان کا حق ہے۔ان کا نام پڑھا جائے ، ان کے کوائف لکھے جائیں اور اس جمعہ میں خدا تعالیٰ نے عالمی طور پر جماعت کو دعا کی توفیق عطا کرنی تھی۔ان سب کے لئے دعا کریں اس لئے اس جمعہ کے لحاظ سے آج نماز جمعہ کے بعد انشاء اللہ نماز جنازہ غائب بھی ہوگی۔الفضل انٹر نیشنل لندن ۱۰ دسمبر ۱۹۹۹ء)