شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 297

شہدائے احمدیت — Page 17

خطبات طاہر بابت شہداء 17 خطبه جمعه ۲۳ راپریل ۱۹۹۹ء سلوک رہا ہے کہ میرے مرنے سے پہلے پہلے وہ ان غلطیوں کی اصلاح کر دیتا ہے جو جماعتی تاریخ کے لحاظ سے ضروری ہوتی ہیں۔پس الحمد للہ کہ اس کے احسانات ہیں مجھ پر۔مجھے امید ہے میرے مرنے تک ہمیشہ اسی طرح جاری رہیں گے۔اب اس کے بعد میں آپ کے سامنے سید الشہداء کا ذکر کرنے لگا ہوں۔میں بتانا چاہتا ہوں کہ سید الشہداء حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کی شہادت کے تو پاسنگ کو بھی دوسری شہادتیں نہیں پہنچ سکتیں، کوئی نسبت نہیں۔جسے خدا نے سید الشہداء کہ دیا، جسے خدا کے مامور نے اللہ سے علم پا کر سید الشہداء کہ دیا اس کے ساتھ کوئی مماثلت نہیں۔میں نے اب وہ ساری شہادتیں اکٹھی کی ہیں جن کے متعلق مختلف وقتوں میں میں بیان کرتارہا ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے دور میں، حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے دور میں، پھر میرے دور میں۔ان کی اب میں بعض آئندہ خطبات میں باتیں کروں گا۔جب تک یہ ذکر یار چلتا ہے چلتا رہے اور مجھے یہ بھی خوشی ہے کہ غلام قادر کی شہادت کی وجہ سے اللہ نے مجھے یہ موقع دیا کہ دوسرے شہداء کا بھی پھر ذکر خیر جاری کر دوں، اس کے نتیجے میں ان کی یاد تازہ ہوگی اور ہر شہادت کے وقت رشتہ دار کامل طور پر اعتراف کریں گے کہ ان کی شہادت کو حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید کی شہادت سے کوئی نسبت نہیں، زمین آسمان کا فرق ہے۔وہ شہادت ہی اور ہے۔چنانچہ اب میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید کی شہادت کا واقعہ جہاں تک ممکن ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں پڑھ کر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ملفوظات جلد سوم صفحه ۵۱۲٬۵۱۱ جدید ایڈیشن : ” صاحبزادہ عبداللطیف شہید کی شہادت کا واقعہ تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔تذکرۃ الشہادتین کو بار بار پڑھو اور دیکھو کہ اس نے اپنے ایمان کا کیسا نمونہ دکھایا۔اس نے دنیا اور اس کے تعلقات کی کچھ بھی پروا نہیں کی۔بیوی یا بچوں کا غم اس کے ایمان پر کوئی اثر نہیں ڈال سکا۔دنیوی عزت اور منصب اور تنعم نے اس کو بزدل نہیں بنایا۔اس نے جان دینی گوارا کی مگر ایمان کو ضائع نہیں کیا۔عبداللطیف کہنے کو مارا گیا یا مر گیا مگر یقیناً سمجھو کہ وہ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔