شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 18 of 297

شہدائے احمدیت — Page 18

خطبات طاہر بابت شہداء پھر فرماتے ہیں: 18 خطبه جمعه ۲۳ راپریل ۱۹۹۹ء ”دیکھو مولوی عبداللطیف صاحب شہید اسی بیعت کی وجہ سے پتھروں سے مارے گئے۔ایک گھنٹہ تک برابر ان پر پتھر برسائے گئے حتی کہ ان کا جسم پتھروں میں چھپ گیا مگر انہوں نے اف تک نہ کی ، ایک شیخ تک نہ ماری بلکہ ان کو اس ظالمانہ کارروائی سے پیشتر تین بار خود امیر نے اس امر سے تو بہ کرنے کے واسطے کہا اور وعدہ کیا کہ اگر تم تو بہ کرو تو معاف کر دیا جاوے گا اور پیشتر سے زیادہ عزت اور عہدہ عطا کیا جاوے گا مگر وہ تھا کہ خدا کو مقدم کیا اور کسی دکھ کی جو خدا کے واسطے ان پر آنے والا تھا پر واہ نہ کی اور ثابت قدم رہ کر ایک نہایت عمدہ زندہ نمونہ اپنے کامل ایمان کا چھوڑ گئے۔وہ بڑے فاضل عالم اور محدث تھے“۔اب صرف یہی لفظ دیکھ لیں ان کا اطلاق بعد کے کسی شہید کے اوپر نہیں کیا جاسکتا۔علم وفضل کے لحاظ سے محدث بھی تھے اور محدث بھی تھے۔حدیث کا گہرا علم تھا اور اپنے زمانے کے اقطاب میں سے تھے۔پس اس پہلو سے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کے ساتھ بعد کی شہادتوں کو کیا نسبت ہے۔وہی نسبت ہو سکتی ہے جو کسی بزرگ یا بلند مرتبہ کی خاک سے کسی کو نسبت ہوسکتی ہے۔”سنا ہے کہ جب ان کو پکڑ کر لے جانے لگے تو ان سے کہا گیا کہ اپنے بال بچوں سے مل لوان کو دیکھ لو۔اب کون ہے بعد کا شہید جو اس پیشکش کے باوجود ملنے سے انکار کر دے، کوئی ہے تو مجھے دکھاؤ۔مگر انہوں نے کہا اب کچھ ضرورت نہیں۔یہ ہے بیعت کی حقیقت اور غرض و غایت“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۴۵۷-۴۵۸) پھر فرماتے ہیں: یقیناً یا درکھو کہ جس طرز سے انہوں نے میری تصدیق کی راہ میں مرنا قبول کیا اس قسم کی موت اسلام کے تیرہ سو برس کے سلسلے میں بجز نمونہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اور کسی طرح نہیں پاؤ گے۔اب جو مختلف رستوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قطعی شہادتیں ملی ہیں۔اس