شہدائے احمدیت — Page 230
خطبات طاہر بابت شہداء 219 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۹۹ء ہوتے رہے جن میں بیان دینے والوں کے نام بھی درج ہوتے ہیں جو ا نتظامیہ سے بار بار مطالبہ کرتے کہ یہ مرکز سے مرد اور مستورات بلوا کر مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں اس لئے فوری طور پر ان کو یہاں سے نکالا جائے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم خود یہ کام سنبھال لیں گے مگر حکومت نے مخالفین کی ان دھمکیوں سے واقف ہونے کے باوجود کبھی کوئی نوٹس نہ لیا۔واقعہ شہادت : ۱۲؍ دسمبر ۱۹۹۷ء کو شام پونے آٹھ بجے آپ اپنی بھا بھی محترمہ غزالہ بیگم صاحبہ بیوہ مبارک احمد صاحب شہید اور ان کی بچیوں کو گاڑی پر سوار کرانے کے لئے ریلوے سٹیشن جا رہے تھے۔بھا بھی اور بچے تانگے پر سوار تھے اور آپ تانگے کے پیچھے موٹر سائیکل پر جارہے تھے کہ سول ہسپتال کے قریب اچانک پیچھے سے ایک موٹر سائیکل سوار آیا اور اس نے آپ پر گولی چلا دی۔گولی لگنے سے آپ زمین پر گر گئے۔تانگہ سے اتر کر بھا بھی نے اٹھایا۔اس وقت آپ ابھی زندہ تھے، فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا مگر بہت تاخیر ہو چکی تھی اور کوئی کوشش کارگر نہ ہوئی اور آپ نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔انالله وانا اليه راجعون۔بوقت شہادت آپ کی عمر۴۲ سال تھی۔پسماندگان میں بیوہ مکرمہ فوزیہ بیگم صاحبہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا یادگار چھوڑے۔تینوں بچے غزالہ نصرت وریحانہ عنبر اور عزت احمد نو سے تیرہ سال کی عمروں کے ہیں اور زیر تعلیم ہیں اور والدہ کے ساتھ سویڈن میں رہتے ہیں۔مگرم میاں محمد اکبر اقبال صاحب یوگنڈا شہادت میاں محمد اکبر اقبال صاحب۔تاریخ شہادت ۱۵/۱۴ / فروری ۱۹۹۸ء کی درمیانی رات۔آپ کا تعلق لاہور کی ایک فیملی سے تھا۔آپ حضرت میاں تاج دین صاحب کے پوتے تھے جو کہ لاہور کے نیک مخلص اور دعا گو بزرگ اور میاں معراج دین صاحب اور میاں سراج دین صاحب کے چھوٹے بھائی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لا ہور آمد کے دوران کبھی کبھی ان کے ہاں آکر قیام فرمایا کرتے تھے۔ان کے گھر کا نام تھا مبارک منزل دلی دروازہ لاہور۔میاں محمد اکبر اقبال ۱۵/جنوری ۱۹۲۵ء کو میاں کمال دین صاحب کے ہاں لاہور میں پیدا ہوئے۔۱۹۴۵ء میں اپنی زندگی وقف کی۔۱۹۴۶ء میں آپ کو جینگ اینڈ پر اسسٹنگ فیکٹری کنری میں کام کرنے کے لئے بھیجا گیا جہاں آپ نے خوب محنت سے کام کیا اور جنرل مینیجر کے عہدے تک ترقی پائی۔