شہدائے احمدیت — Page 231
خطبات طاہر بابت شہداء 220 خطبہ جمعہ ۱۶؍ جولائی ۱۹۹۹ء ۱۹۹۳ء میں آپ کو یوگنڈا کے ایک شہر نجہ (Jinja) میں ایک جماعتی فیکٹری میں خدمت کے لئے بھجوایا گیا۔جہاں آپ شہادت تک خدمات سرانجام دیتے رہے۔اتنے قابل تھے اور مزدوروں سے ایسا سلوک تھا کہ بار ہا وہاں کوشش کی گئی کہ جس طرح باقی فیکٹریوں میں ہڑتال ہوتی ہے یہاں بھی ہڑتال کروائی جائے مگر مزدوروں نے صاف انکار کر دیا کیونکہ ان کا بہت نیک اثر ان پر تھا۔واقعہ شہادت: ڈاکو ۸ فروری ۱۹۹۸ ء کی شب آپ کی رہائش گاہ میں نقب لگا کر داخل ہوئے اور آپ پر حملہ کر کے کسی آہنی چیز سے آپ کے سر پر ضر ہیں لگا ئیں جن کی وجہ سے آپ شدید زخمی ہو گئے۔قریب ہی ایک احمدی دوست ناصر احمد رہتے تھے وہ جب آپ کونماز فجر کے لئے بلانے آئے تو دیکھا کہ آپ شدید زخمی حالت میں فرش پر گرے پڑے ہیں۔انہوں نے جماعت کو اور پولیس کو اس وقوعہ کی اطلاع کی۔آپ کو ضروری کارروائی کے بعد فوراً ہسپتال داخل کروایا گیا مگر زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے آپ مسلسل بے ہوش رہے اور ہر طرح کی طبی امداد دینے کے باوجود جانبر نہ ہو سکے۔آخر ۱۴ اور ۱۵ / فروری کی درمیانی شب اپنے مولا کے حضور حاضر ہو گئے۔اناللہ وانا اليه راجعون۔شہید مرحوم کا جنازہ ربوہ لایا گیا اور بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔پسماندگان میں بیوہ مکرمہ ممتاز بیگم صاحبہ کے علاوہ چار بیٹے اور دو بیٹیاں یادگار چھوڑیں۔مکرم محمد ارشاد اقبال صاحب عزیز آباد کراچی میں زعیم مجلس انصاراللہ ہیں ، شادی شدہ اور صاحب اولاد ہیں۔مکرم مرزا نا صر محمود صاحب مربی سلسلہ لاہور کینٹ بھی شادی شدہ اور صاحب اولاد ہیں۔مکرم اقبال محمود صاحب ٹیکنیکل ایجوکیشن سندھ میں سرکاری ملازم ہیں اور ماڑی پور مجلس کے ناظم اطفال ہیں۔مظفر محمود صاحب لاہور میں ذاتی کاروبار کرتے ہیں اور مقامی مجلس کے ناظم عمومی ہیں۔مکرمه فاخرہ بیگم صاحبہ مکرم خلیل الرحمن صاحب مغل راولپنڈی کی اہلیہ ہیں۔مکرمہ افتخار بیگم صاحبہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کراچی میں رہتی ہیں اور عزیز آباد کراچی میں لجنہ کی سیکرٹری ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی ساری اولا د دینی اور دنیاوی ہر لحاظ سے صف اول میں ہے اور خدا کے فضل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بے شمار انعامات کی شاہد ہے۔