شہدائے احمدیت — Page 229
و خطبات طاہر بابت شہداء 218 خطبہ جمعہ ۱۶ار جولائی ۱۹۹۹ء واقعہ شہادت : ۲۶ / اور ۱/۲۷ کتوبر ۱۹۹۷ء کی درمیانی شب محترم ڈاکٹر صاحب کو گھر سے اغوا کیا گیا۔اور پھر بڑی بے دردی سے قتل کر کے گاؤں کے قریب بہنے والے معروف برساتی نالے پلکھو میں پھینک دیا گیا۔ایک مجرم زمان شاہ کی نشاندہی پر پولیس نے علاقہ کے تین معززین کے ذریعہ نعش برآمد کروائی۔پسماندگان میں بیوہ محترمہ نسیم بیگم صاحبہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور چار بیٹے یادگار چھوڑے۔بیٹیوں میں سے ایک مکر مہ امتہ النصیر اہلیہ مکرم کمال الدین صاحب کارکن نظارت تعلیم ربوہ ہیں۔دوسری مکر مہ امتہ الحفیظ صاحبہ اہلیہ طارق محمود صاحب چونڈہ میں ہیں۔تیسری امتہ الحمود صاحبہ ساتویں کلاس میں پڑھتی ہیں اور اپنی بہن امتہ النصیر صاحبہ کے پاس ربوہ میں رہتی ہیں۔بیٹوں میں سے مکرم نصیر احمد صاحب وزیر آباد میں رہائش پذیر ہیں اور اپنے والد صاحب کا کلینک چلا رہے ہیں۔مکرم حفیظ احمد صاحب کراچی میں الیکڑونکس انجینئر ہیں اور مکرم محمود احمد صاحب امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔مکرم مظفر احمد صاحب شر ما شکار پور مظفر احمد صاحب شرما شہید، شکار پور۔تاریخ شہادت ۱۲؍ دسمبر ۱۹۹۷ء امیر جماعت ہائے احمد یہ اضلاع شکار پور، جیکب آباد، سکھر اور گھوٹکی محترم عبدالرشید صاحب شرما کے صاحبزادے تھے۔بڑے مخلص اور دین کی غیرت رکھنے والے فدائی احمدی تھے۔دعوت الی اللہ کا بڑا شوق تھا۔پیشہ کے لحاظ سے وکیل تھے لیکن عملاً وکالت نہیں کی بلکہ اپنے والد کے کاروبار میں ان کی معاونت کرتے رہے بوقت شہادت ضلعی سیکرٹری امور عامہ اور قاضی کی خدمت آپ کے سپر د تھی۔اس سے پہلے آپ قائد خدام الاحمدیہ ضلع بھی رہے۔شکار پور پریس کلب کے جنرل سیکرٹری اور بار ایسوسی ایشن کے ممبر بھی تھے۔اپنے اثر و رسوخ اور خدمت خلق کا جذبہ رکھنے کی وجہ سے عوام الناس میں بہت ہر دل عزیز تھے۔سندھ میں پیدا ہوئے اور بڑی روانی سے سندھی بولتے تھے۔آپ کا خاندان شکار پور میں اکیلا احمدی گھرانہ تھا۔اس خاندان نے جماعت کی وجہ سے آنے والی جملہ مصیبتوں کا پوری ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ان کا کارخانہ ایک ظالمانہ حملہ میں مکمل طور پر بر باد کر دیا گیا۔دھمکی آمیز خطوط لکھے گئے لیکن ان کے پائے ثبات میں کوئی فرق نہ پڑا۔اخبارات میں ان کے بارہ میں انتہائی غلیظ بیانات شائع